کارپوریٹ اسکولوں میں بے تحاشہ فیس :کویتا

   

آخر کارروائی کیوں نہیں ؟ غریب و متوسط خاندان شدید دباؤ کا شکار ، چیف منسٹر خاموش
نظام آباد ۔4 اپریل ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) تلنگانہ جاگروتی صدر کے کویتا نے کارپوریٹ تعلیمی اداروں کی جانب سے فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ اور مبینہ لوٹ کھسوٹ پر ریاستی حکومت کی خاموشی پر سخت سوالات اُٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلہ کے حل کے لیے فوری طور پر اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب خواتین ریزرویشن بل کے لیے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس منعقد کیے جا سکتے ہیں تو لاکھوں غریب اور متوسط طبقہ کے خاندانوں کو راحت فراہم کرنے کے لیے فیس ریگولیشن بل پر اسمبلی کا خصوصی اجلاس کیوں نہیں بلایا جا رہا ہے۔انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے فیس کنٹرول سے متعلق مسودہ بل تیار کیے جانے کے باوجود کئی ماہ گزر چکے ہیں، لیکن اس پر عمل درآمد میں تاخیر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر کارپوریٹ تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی سے گریز کیوں کیا جا رہا ہے اور چیف منسٹر اس حساس مسئلہ پر خاموش کیوں ہیں۔ کویتا نے الزام عائد کیا کہ کارپوریٹ تعلیمی اداروں کی من مانی فیسوں کے سبب غریب اور متوسط طبقہ کے خاندان شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں اور ان کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔کے کویتا نے مزید کہا کہ مسودہ بل تیار ہونے کے باوجود کارپوریٹ ادارے مسلسل فیسوں میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ حکومت اس مسئلہ کو نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومت اور کارپوریٹ تعلیمی اداروں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ پر بھی سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ آیا ان کے درمیان کوئی خفیہ معاہدے یا مفادات وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیسوں کی اس لوٹ کے نتیجہ میں عام خاندانوں کی عمر بھر کی جمع پونجی ختم ہو رہی ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت میں سنجیدگی ہے تو فوری طور پر اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے فیس ریگولیشن قانون نافذ کیا جائے تاکہ عوام کو راحت مل سکے۔دریں اثناء تلنگانہ جاگروتی اور ایچ ایم ایس کے زیراہتمام ’’سیو سنگارینی‘‘ کے عنوان سے ایک راؤنڈ ٹیبل اجلاس اتوار کو بنجارہ ہلز میں واقع تلنگانہ جاگرتی دفتر میں منعقد کیا جائے گا، جس میں کے کویتا، ایچ ایم ایس کے جنرل سکریٹری ریاض احمد اور مختلف مزدور تنظیموں کے قائدین شرکت کریں گے۔ اجلاس میں سنگارینی ادارہ کے مسائل، میڈیکل بورڈ کی کارکردگی، حکومت کی جانب سے واجب الادا بقایاجات، تقرریوں اور ادارہ کے استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔