شرائط سے استثنیٰ طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ، پلے گرائونڈ کی موجودگی یقینی بنانے کا مطالبہ
حیدرآباد۔2 اگست (سیاست نیوز) کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے قائد بھٹی وکرامارکا نے کے سی آر حکومت پر کارپوریٹ تعلیمی اداروں کو شرایط سے استثنیٰ دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے مروجہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حکومت نے بعض کارپوریٹ اداروں کو رعایتوں کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے رکن اسمبلی سریدھر بابو کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت تعلیمی نظام کو تباہ کرررہی ہے۔ چیتنیا اور نارائنا جیسے تعلیمی اداروں پر کے سی آر حکومت کافی مہربان ہے۔ تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے چاہے وہ اسکول ہوں یا جونیئر کالجس پلے گرائونڈ اور دیگر انفراسٹرکچر کی فراہمی ضروری ہے لیکن تلنگانہ میں ان اداروں کے اسکولس اور کالجس کو پلے گرائونڈ کی شرط سے استثنیٰ کیا گیا جو سراسر نا انصافی ہے۔ کے سی آر حکومت طلبہ کے تعلیمی مستقبل سے کھلواڑ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کے لیے کھیل کود ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اداروں کے قیام کی اجازت کے لیے پلے گرائونڈس کو اہم شرط کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام اداروں کی جانب سے شرائط کی تکمیل کو یقینی بنائے۔ ہر تعلیمی ادارے میں پلے گرائونڈ کی سہولت سے طلبہ ذہنی بوجھ سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ کھیل کود کی سرگرمیوں میں طلبہ کی حصہ داری ان کے تعلیمی معیار میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ دو ایسے ادارے جو خالص تجارتی مقاصد کے تحت کام کررہے ہیں، جن کے نزدیک طلبہ کی اہمیت صرف رینک حاصل کرنے تک محدود ہے، ایسے اداروں کے لیے حکومت نے رعایتوں میں نرمی دی ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ دونوں کارپوریٹ ادارے امتحانات میں رینک حاصل کرنے کے لیے ہی توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ انہیں طلبہ کے کھیل کود اور دیگر سرگرمیوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ کانگریس قائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ نہ صرف رعایتوں سے دستبرداری اختیار کرے بلکہ تمام تعلیمی اداروں میں شرائط کے نفاذ کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل کا تحفظ ضروری ہے اور حکومت کو اس سلسلہ میں سنجیدگی سے اقدامات کرنے ہوں گے۔ بھٹی وکرامارکا نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کو روانہ کردہ مکتوب کی نقل میڈیا کے لیے جاری کی جس میں انہوں نے کے سی آر کے آبائی موضع چنتا مڑکا کے گھر کو 10 لاکھ روپئے کے امداد فراہم کرنے پر ردعمل ظاہر کیا۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ صرف ایک موضع کے لیے اس طرح کی امداد کا اعلان مناسب نہیں ہے۔ چیف منسٹر کو دیگر مواضعات کے ساتھ یکساں سلوک کرتے ہوئے اسی طرح کی امداد کا اعلان کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کسی ایک موضع یا علاقے تک محدود نہیں ہوتے بلکہ وہ ساری ریاست کے لیے چیف منسٹر ہوتے ہیں۔ ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ چیف منسٹر نے عوام سے کئے گئے انتخابی وعدوں کی آْج تک تکمیل نہیں کی اور وہ صرف اپنے آبائی موضع کی ترقی پر توجہ مرکوز کررہے ہیں۔