سرکاری ریکارڈ میں عدم شمولیت، کورونا وارڈس کو سنکرانتی تہوار تک برقرار رکھنے کا فیصلہ
حیدرآباد: تلنگانہ میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران کورونا کے کیسس میں بتدریج کمی واقع ہوئی جس کے بعد محکمہ صحت نے اعلان کیا تھا کہ دوسری لہر کے آغاز کو روکنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن گزشتہ دو ہفتوں کے دوران خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔ ایسے مریض جن میں کوئی علامات نہیں ہیں ان کی کثیر تعداد خانگی دواخانوں سے رجوع ہورہی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے اعداد و شمار اگرچہ کیسس میں کمی کو ظاہر کرتے ہیں لیکن غیر علامتی مریضوں کی یہ تعداد حکومت کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ خانگی ہاسپٹلس کے ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں غیر علامتی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ کورونا کے شکار کئی افراد ہاسپٹل سے رجوع ہوکر آئسولیشن وارڈس میں اپنا علاج کرا رہے ہیں۔ کارپوریٹ ہاسپٹلس نے کیسس میں کمی کے بعد 30 ڈسمبر تک کورونا وارڈس کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن اچانک کیسس کی تعداد میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے جنوری کے اختتام تک کورونا وارڈس کی برقراری کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ سنکرانتی فیسٹول اور شادیوں کے سیزن کو دیکھتے ہوئے کارپوریٹ ہاسپٹلس نے آئسولیشن وارڈس کی برقراری کا فیصلہ کیا تاکہ مریضوں کیلئے ہنگامی طور پر علاج کی سہولت حاصل رہے۔ ہر کارپوریٹ ہاسپٹل میں 24 گھنٹے میں کم از کم 3 تا 4 کورونا کے مریض رجوع ہورہے ہیں۔ ایسے مریضوں کے بارے میں محکمہ صحت کو اطلاع نہیں مل رہی ہے جس کے باعث بلیٹن میں مریضوں کی تعداد کم دیکھی جارہی ہے۔ ایک کارپوریٹ ہاسپٹل کے ذرائع نے بتایا کہ ایک ہفتہ میں کورونا کے غیر علامتی 35 مریض رجوع ہوئے اور ان میں سے زیادہ تر صحت یاب ہوئے ہیں ۔ حکومت کے مطابق یکم ڈسمبر سے سرکاری اور خانگی ہاسپٹلس میں کورونا کے بستروں میں مریضوں کی تعداد انتہائی کم ہے ۔ خانگی شعبہ میں 7769 بستروں میں سے صرف 19 فیصد بستروں پر مریض ہیں جبکہ سرکاری دواخانوں میں مریضوں کی تعداد صرف 9 فیصد ہے۔ محکمہ صحت نے کیسس کی تعداد میں خاموش اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ گزشتہ ایک ہفتہ سے ریاست کے تمام اضلاع بشمول حیدرآباد میں کیسس کی تعداد میں غیر معمولی کمی درج کی گئی تھی لیکن گزشتہ 24 گھنٹوں میں 23 اضلاع میں نئے کیسس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے مذکورہ اضلاع کے ضلع کلکٹرس اور دیگر محکمہ جات کو چوکسی کا مشورہ دیا ہے ۔ ریاست میں برطانیہ سے پھیلنے والے نئے وائرس کے کیسس میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا تاہم حکومت نئے وائرس کے بارے میں کوئی غفلت برتنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔