کارپوریٹ شعبہ کو فائدہ پہنچانے کیلئے مرکز کے زرعی قوانین

   


سی پی آئی قائد سدھاکر ریڈی کا الزام، تلنگانہ اسٹیٹ ایکزیکیٹو اجلاس سے خطاب

حیدرآباد۔ سابق جنرل سکریٹری کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ایس سدھاکر ریڈی نے الزام عائد کیا کہ زرعی شعبہ کے فوائد کارپوریٹ اداروں کو منتقل کرنے کیلئے نریندر مودی حکومت نے نئے قوانین وضع کئے ہیں۔ حیدرآباد میں تلنگانہ اسٹیٹ ایکزیکیٹو اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سدھاکر ریڈی نے کہا کہ امبانی، اڈانی اور دیگر کارپوریٹ گھرانوں کے پاس کسانوں کے مفادات گروی رکھ دیئے گئے اور ملک بھر کے کسان احتجاج کررہے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت کسانوں کے مسائل کی یکسوئی کیلئے تیار نہیں ہے جبکہ احتجاجی کسانوں نے قوانین سے دستبرداری تک احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انوں نے کہا کہ ملک کے سیکولر ڈھانچہ کو نقصان پہنچانے کیلئے ہندوتوا نظریات کو مسلط کیا جارہا ہے۔ آر ایس ایس اور دیگر فرقہ پرست تنظیموں نے ملک کی مذہبی روایات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کورونا کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی اور کیرالا حکومت کی جانب سے عوام کو ویکسین کی مفت فراہمی کی پیشکش پر مودی کو بھروسہ نہیں۔ نریندر مودی کورونا سے نمٹنے کیلئے کیرالا حکومت کے اقدامات کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اجلاس میں سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی کے علاوہ کامریڈ جنگیا اور سابق رکن راجیہ سبھا سید عزیز پاشاہ اور دوسروں نے شرکت کی۔ مقررین نے مرکز اور ریاستی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بائیں بازو کی جماعتیں عوامی مسائل پر جدوجہد جاری رکھیں گی۔ عزیز پاشاہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے مرکزی قوانین سے فوری دستبرداری اختیار کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے کسان اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے سڑک پر آچکے ہیں ۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسانوں کے مطالبات کو فوری قبول کرے۔