چیف منسٹر کا اسمبلی میں اعلان ، کورونا علاج کو آروگیہ شری کے تحت شامل کرنے کا تیقن، سفید راشن کارڈ رکھنے والوں کے بلز کی ادائیگی
حیدرآباد: چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کارپوریٹ ہاسپٹلس میں کورونا کے علاج اور مریضوں سے زائد رقومات حاصل کرنے جیسے امور کی نگرانی کیلئے آئی اے ایس عہدیدار کی قیادت میں ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کیا۔ کورونا کے علاج کے سلسلہ میں حکومت کو کئی شکایات موصول ہوئیں کہ خانگی اور کارپوریٹر ہاسپٹلس مریضوں سے بھاری رقومات وصول کر رہے ہیں۔ تلنگانہ اسمبلی میں کورونا، اثرات اور حکومت کے اقدامات پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ٹاسک فورس سینئر آئی اے ایس عہدیدار کی قیادت میں فوری اثر کے ساتھ تشکیل دی جائے گی اور وہ ہفتہ واری رپورٹ جاری کرے گی۔ یہ رپورٹ اہم اپوزیشن قائدین کو روانہ کی جائے گی تاکہ کورونا کے شکار افراد سے دواخانوں کی لوٹ کھسوٹ کے بارے میں سماجی شعور بیدار کیا جائے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کارپوریٹ ہاسپٹلس پر میں نگرانی کے حق میں ہوں۔ ہائی کورٹ کی اجازت کے بعد حکومت کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا سوائے اس کے کہ خانگی ہاسپٹلس کو کورونا مریضوں کو شریک کرنے کی اجازت دی جائے لیکن اب علاج کے نام پر بھاری رقومات حاصل کرنے کے معاملات منظر عام پر آئے ہیں۔ مصیبت کی اس گھڑی میں مریضوں کے ساتھ کارپوریٹ ہاسپٹلس کا رویہ ٹھیک نہیں۔ حکومت ایسے ہاسپٹلس کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وباء کی اس گھڑی میں پریشان حال عوام سے رقومات ہڑپنا ٹھیک نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے کانگریس اور مجلس کی تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کوروناکے علاج کو آروگیہ شری کے تحت شامل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ غریبوں کے علاج میں سہولت ہو۔ چیف منسٹر نے کہا کہ خانگی ہاسپٹلس میں علاج کی صورت میں وائیٹ کارڈ ہولڈرس کو حکومت کی جانب سے بل کی ادائیگی کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو میڈیکل انفراسٹرکچر کے لئے بجٹ میں اضافہ کرنا چاہئے۔ تلنگانہ نے میڈیکل اینڈ ہیلت کے بجٹ میں قابل لحاظ اضافہ کیا ہے اور وہ مستقبل میں کورونا جیسی کسی بھی وباء سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔ عثمانیہ ہاسپٹل کی موجودہ عمارت کو منہدم نہ کرنے سے متعلق درخواست پر کے سی آر نے کہا کہ اس سلسلہ میں ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد کوئی قدم اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی صورتحال میں مرکز کو ریاستوں کے ساتھ دست تعاون دراز کرنا چاہئے تھا۔ مرکز نے نیشنل ہیلت مشن کے تحت صرف 256 کروڑ روپئے تلنگانہ کیلئے جاری کئے ۔ اس کے علاوہ 647 وینٹی لیٹرس فراہم کئے گئے۔ انہوں نے اپوزیشن کو یقین دلایا کہ ریاستی حکومت ان کی تجاویز پر عمل کرے گی ، تاہم یہ تجاویز صرف الزامات پر مبنی نہ ہوں۔ حکومت کورونا سے نمٹنے کیلئے دن رات محنت کر رہی ہے۔ تمام سرکاری ہاسپٹلس میں علاج کی بہتر سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ ملازمین اور پنشنرس کی تنخواہوں میں کٹوتی کرتے ہوئے عوام کا تحفظ کیا گیا۔ کانگریس کی تنقیدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ شراب کی دکانیں کیا صرف تلنگانہ میں کھولی گئیں؟ کانگریس زیر اقتدار ریاستوں میں کیا شراب کی دکانات بند ہیں؟ مختلف ریاستوں سے مشاورت کے بعد مریضوں کو ہوم آئسولیشن کی سہولت فراہم کی جارہی ہے ۔ انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ کورونا سے نمٹنے کیلئے الزام تراشی کے بجائے تعمیری تجاویز پیش کریں۔ چیف منسٹر نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں کورونا کی صورتحال قابو میں ہے اور ملک میں کورونا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد تلنگانہ میں دیگر ریاستوں سے زیادہ ہے۔ کورونا سے اموات دیگر ریاستوں سے کافی کم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت علاج کی سہولتوں پر درکار فنڈس خرچ کرے گی اور حکومت کے پاس فنڈس کی کوئی کمی نہیں۔