کارڈن سرچ آپریشن کے باوجود شہر میں قتل کے واقعات

   

پولیس پر مخبروں کے اشاروں پر کام کرنے کا الزام
علاقوں کی ناکہ بندی سے عوام خوفزدہ
حیدرآباد ۔ 23 اکٹوبر (سیاست نیوز) شہر میں کارڈن سرچ آپریشن کے باوجود قتل کی واردتوں کا پیش آنا اور جرائم میں کمی کا نہ ہونا پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گیا ہے اور تلاشی مہم کے یہ آپریشن بے فیض ثابت ہورہے ہیں۔ ایسا سمجھا جارہا ہیکہ پولیس برائے نام اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے لیکن جرائم پر قابو پانے میں پولیس کو حقیقی دلچسپی نہیں۔ بستیوں کو گھیر کر عملاً اپنے محاصرہ میں لیتے ہوئے گھر گھر تلاشی کے نام پر جاری کارڈن سرچ آپریشن سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور اس کارڈن سرچ سے عوام میں خوف کا ماحول پیدا ہوا ہے۔ پولیس کے اس کارڈن سرچ آپریشن کے دوران پولیس کے مخبروں کی چاندی ہورہی ہے۔ پولیس پر الزام ہیکہ وہ مخبروں کی جانب سے نشاندہی کردہ مکانات اور مقامات پر سخت کارروائی کررہی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس ان سنگین الزامات سے بھی نہیں بچی کہ وہ مخبروں کے اشاروں پر کام کررہی ہے۔ کارڈن سرچ آپریشن کے دوران جن گاڑیوں کو خاطرخواہ دستاویزات اور درست اطلاعات نہ ہونے کے سبب ضبط کیا جارہا ہے ان گاڑیوں میں اکثر پر فینانس ہوتا ہے جس کے سبب شہری اطمینان بخش دستاویزات پیش نہیں کرتے جنہیں گاڑی حاصل کرنے کیلئے مخبروں کی مدد سے اچھی خاصی رقم خرچ کرنے کے بعد گاڑی حاصل ہورہی ہے۔ روزگار، کاروبار، کام کاج و زندگی کی دیگر مصروفیات کی انجام دہی گاڑی کے بغیر ممکن نہیں۔ ایسے حالات کا پولیس کے مخبر راست فائدہ اٹھارہے ہیں۔ ان دنوں شہر میں پولیس کی جانب سے مائتری و پیس کمیٹی کے اراکین میں شناختی کارڈز جاری کئے گئے جبکہ ان شناختی کارڈز کی اجرائی میں بھی ایسے افراد کو مبینہ طور پر نمائندگی دی گئی جن کا مجرمانہ ریکارڈ پایا جاتا ہے۔ ویسٹ زون اور ساؤتھ زون میں اس طرح کے واقعات پائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ گذشتہ دنوں آصف نگر کے علاقہ زیباباغ فلک کے حدود نواب صاحب کنٹہ لیگل کنٹہ میں کارڈن اور سرچ آپریشن کے دوران عوام نے سخت بے چینی کا اظہار کیا۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کی نگرانی میں کئے گئے آپریشن میں عملہ کی جانب سے بدسلوکی اور نازیبا سلوک کے پولیس پر الزامات لگائے گئے اور انتہائی سخت انداز میں پولیس کا رویہ شہریوں میں تشویش اور حیرت کا سبب بنارہا۔ مکانات کی تلاشی مشتبہ افراد کی نشاندہی، غیر سماجی عناصر کی موجودگی اور ان کی سرگرمیاں و نقل و حرکت پر روک لگانا پولیس کیلئے کوئی مشکل نہیں جبکہ کارڈن اور سرچ آپریشن کے ذریعہ عام شہریوں میں خوف پیدا ہوگیا ہے اور جرائم پیشہ افراد باضابطہ اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان آپریشن میں پولیس کو نہ ہی گانجہ اسمگلرس ملتے ہیں اور نہ ہی خانگی فینانسرس جو شہریوں کو ہراساں کررہے ہیں، پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ کارڈن سرچ آپریشن کو شام شہریوں کے لئے راحت کا سبب بنانے کے اقدامات کریں۔ ع