حکومت نے 1500 کروڑ سے 1200 AED مشینوں کو خریدنے کا فیصلہ کیا ہے
حیدرآباد ۔ 27 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : ریاستی وزیر صحت ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ ملک میں یومیہ 4 ہزار افراد کی اچانک کارڈیاک اریسٹ سے موت واقع ہورہی ہے ۔ ہر سال اسی وجہ سے 15 لاکھ عوام اپنی زندگیوں سے محروم ہورہے ہیں ۔ سنگاریڈی کلکٹریٹ میں منعقدہ سی پی آر تربیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے سڈن کارڈیاک اریسٹ اور ہارٹ اٹیک کے درمیان فرق ہونے کا دعویٰ کیا ۔ انسان کے فوری ڈھیر ہوجانے کو کارڈیاک اریسٹ کہتے ہیں تب سی پی آر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ وزیر صحت نے کہا کہ تاہم صرف 2 فیصد افراد کو ہی سی پی آر کے بارے میں معلومات ہیں ۔ 98 فیصد عوام اس سے ناواقف ہیں ۔ جس کی وجہ سے زیادہ تر افراد کارڈیاک اریسٹ کی وجہ سے فوت ہورہے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے کارڈیاک اریسٹ کے بارے میں بڑے پیمانے پر شعور بیدار کیا جارہا ہے ۔ سی پی آر کرنے کے لیے کوئی بڑی تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ صرف معلومات رہنا کافی ہے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ای ایم آر کے ذریعہ اس کی تربیت فراہم کرتے ہوئے اضلاع کو روانہ کیا جارہا ہے ۔ تمام محکمہ کے عملہ کو اس کی تربیت فراہم کی جارہی ہے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ سی پی آر کے علاوہ اے ای ڈی آلہ جات کے ذریعہ برقی شاک دیتے ہوئے سڈن کارڈیاک اریسٹ کا شکار ہونے والوں کا علاج کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی پی آر ہو یا شاک ٹریٹمنٹ صرف 5 تا 10 منٹ کے درمیان ہونا چاہئے ۔ ریاست میں 1500 کروڑ روپئے کے مصارف سے اے ای ڈی کے 1200 مشینوں کو خریدنے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کھانے پینے کی عادت تبدیل ہونے سے بھی کارڈیاک اریسٹ کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ کورونا کے بعد اس میں اضافہ ہوگیا ہے ۔۔ ن