کاغذنگر ہاسٹل میں طالبہ کی اچانک موت پر احتجاج

   

اسٹاف پر لاپرواہی کا الزام ، خاطیوں کو معطل کرنے ایڈیشنل کلکٹر کا تیقن

کاغذ نگر /7 ستمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کاغذ نگر کستوربا گاندھی ودیالیہ ہاسٹل میں آج آٹھویں جماعت کی طالبہ ایشوریہ نامی لڑکی کی طبیعت خراب ہو کر اچانک فوت ہونے پر ہاسٹل کے روبرو احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کاغذ نگر کے کستوربا گاندھی ودیالیہ ہاسپٹل میں اسٹاف کی لاپروائی اور کاہلی کی وجہ سے ایک معصوم ایشوریہ آٹھویں جماعت کی لڑکی فوت ہو گئی, اس کی اطلاع ملتے ہی فوت ہونے والی لڑکی کے والدین بڑے پیمانے پر عوام اور سیاسی پارٹی قائدین ہاسٹل کے روبرو جمع ہوکر ہاسٹل کے ذمہ دار اور کلکٹر اور ریاستی حکومت کے خلاف احتجاج کرنا شروع کر دیا۔بی جے پی پارٹی قائدین ڈاکٹر پی ہریش بابو، ڈاکٹر کوتا پلی سرنیواس ، بی ایس پی پارٹی حلقہ انچارج محمد ارشد حسین اور اسٹوڈنٹ یونین قائدین کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے ریاستی حکومت کے خلاف نعرے لگائے گئے، اس موقع پر ڈسٹرکٹ کلکٹر اور اعلی عہدے داروں کے آنے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا، یہ دھرنا لگاتار چار گھنٹے جاری رہا، تقریبا چار گھنٹوں کے بعد اعلی عہدے داروں اور ڈسٹرکٹ کلکٹر کی ہدایت پر ایڈیشنل کلکٹر راجیشم نے احتجاجی مقام پر پہنچ کر لڑکی کے والدین اور سیاسی قائدین کے روبرو اعلان کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ایڈیشنل کلکٹر راجیشم نے کہا کہ حادثہ میں فوت ہونے والی لڑکی کے کسی افراد خاندان کے کسی فرد کو ایک نوکری نقد پچاس ہزار روپیہ کا عطیہ اور ہاسٹل کی ایس او سپنا ، اے این ایم بھارتی، اور ڈیوٹی ٹیچر سریلتا کو فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کیے، اور معاوضہ کے طور پر پندرہ لاکھ روپے منظور کرنے کے لئے ریاستی حکومت کو تجویز پیش کی گئی ۔ڈسٹرکٹ ایڈیشنل کلکٹر راجیشم کے پبلک کے روبرو لڑکی کے حق میں تیقن دئے جانے پر احتجاجی دھرنا ختم کردیا گیا۔