کاغذ نگر میں اکثریتی فرقہ کے ظلم و زیادتی کا 70 سالہ مسلمان شکار

   

جئے سری رام کا نعرہ نہ لگانے پر مارپیٹ، جمعیۃ العلماء کے وفد کی ملاقات
کاغذنگر۔ یکم ؍ نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کاغذ نگر میں اکثریتی فرقے اور بی جے پی ذہن رکھنے والے لوگوں کی جانب سے فرقہ پرست طاقتوں کی دن بدن غنڈہ گردی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ضلع عادل آباد کے جینور میں اکثریتی فرقے کی جانب سے مسلم اقلیتوں کی دوکانات اور مسجدوں میں توڑ پھوڑ اور بے حرمتی کیے جانے کے بعد غنڈہ عناصر کے خلاف پولیس کی جانب سے کاروائی نہ کیے جانے پر فرقہ پرست طاقتوں کی ہمت میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کاغذ نگر میں مسلم اقلیتی نوجوان کے جوس سینٹر کو توڑ پھوڑ کرتے ہوئے نقصان پہنچایا گیا۔ 26 اکتوبر کے روز کاغذ نگر سے پانچ کلومیٹر کی دوری پر بنگالی کیمپ(ایسگاوں ) میں اقلیتی نوجوان عابد حسین کو ہجومی تشدد عوام نے درخت کو باندھ کر پٹائی کرتے ہوئے مسلم نوجوان اور اس کی ماں کو زد و کوب کیا گیا۔ پولیس کی جانب سے صرف تین گرفتاریاں عمل میں لائی گئی۔ ابھی یہ معاملہ زیر دریافت میں ہی ہے۔ اسی دوران کاغذ نگر کے ساکن حافظ محمد حفیظ الدین کے والد شیخ دستگیر حسب معمول روزانہ کی طرح روزگار کے سلسلے میں فجر کے بعد کاغذ نگر کے قریب کے دیہاتی علاقے میں گزشتہ کچھ سالوں سے بریڈ بسکٹس ڈبل روٹی کو اپنے سائیکل کے ذریعے دیہی علاقوں میں فروخت کیا کرتے تھے۔ لیکن دو دن قبل صبح کے اوقات شیخ دستگیر بزرگ شخص لگ بھگ جس کی عمر 70 سال ہے۔ کچھ فرقہ پرست اکثریتی فرقے کے کچھ نوجوان بزرگ شخص کو روک کر جئے سری رام کے نعرہ لگانے پر زور دیا گیا۔لیکن مسلم بزرگ شخص کی جانب سے انکار کر نے پر مارپیٹ کرتے ہوئے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔ اور دوبارہ اس علاقہ کو آنے پر ختم کرنے کا انتبا دیا گیا۔ اس کی اطلاع ملتے ہی مقامی مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر کے ساتھ ایک مقام پر جمع ہوکر خاموشی کے ساتھ متعلقہ پولیس اسٹیشن اور ڈی ایس پی کاغذنگر کو تحریری طور پر شکایت درج کی گئی۔ مقامی پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف کیس درج کرتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی۔ اس سلسلے میں آج جمعیۃ العلماء ضلع صدر مولانا مبین قاسمی نے مقامی قاضی محمد عارف الدین اشرفی کے علاوہ علمائے کرام کے ساتھ مل کر فرقہ پرست طاقتوں کا شکار بزرگ شخص شیخ دستگیر کے مکان پہنچ کر ان کے فرزند حافظ محمد حفیظ و الدین سے ملاقات اور تفصیلات حاصل کرتے ہوئے فرقہ پرست نوجوانوں کی جانب سے کی گئی حرکت کی مذمت کی گئی۔مقامی پولیس پر زور دیا گیا کے فوری حرکت میں آتے ہوئے بزرگ شخص شیخ دستگیر پر حملہ کرنے والے اور جے سری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کرنے والے نوجوانوں کو پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچانے کا جمعیۃ العلماء ہند ضلع کے بی آصف آباد کا پولیس سے مطالبہ کیا گیا۔