کاغذ نگر میں کانگریس اور بی جے پی میں اتحاد

   

شاہین سلطانہ چیرپرسن ، جی لاونیا وائس چیرپرسن منتخب، بڑا سیاسی دھماکہ

حیدرآباد ۔17 ۔ فروری (سیاست نیوز) کاغذ نگر میونسپلٹی کی سیاست نے اس وقت غیر متوقع اور حیران کن رخ اختیار کرلیا جب کانگریس اور بی جے پی کے درمیان غیر معمولی اتحاد کے نتیجہ میں کانگریس کی امیدوار شاہین سلطانہ میونسپل چیر پرسن منتخب ہوگئیں جبکہ وائس چیرپرسن کا عہدہ بی جے پی کی گجلا لاونیا کو ملا۔ تلنگانہ کی سیاست میں روایتی حریف سمجھی جانے والی دونوں جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا ریاست بھر میں موضوع بحث بن چکا ہے ۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کاغذ نگر میونسپلٹی میں کانگریس کے 9 بی جے پی کے 3 اور 2 آزاد امیدواروں کے علاوہ بی جے پی کے مقامی رکن اسمبلی پلوائی ہریش بابو اور ایم ایل سی ڈنڈے وٹھل معاون اراکین کے ووٹوں نے اس کامیابی میں کلیدی رول ادا کیا۔ کانگریس اور بی جے پی کے قائدین نے کہا کہ یہ اتحاد ترقیاتی ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کے مقصد سے کیا گیا ہے ۔ اس انتخابی عمل کے دوران سیکوریٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ۔ عادل آباد کے ایس پی اکھل مہاجن اور ضلع کمرم بھیم کے ایس پی نتیکا پنت کی قیادت میں پورے علاقہ کو پولیس کنٹرول میں رکھا گیا ۔ ڈی ایس پی وحید الدین اور سرکل انسپکٹر پریم کمار نے تقریباً 100 بیریکیڈس لگاکر ٹریفک کا رخ موڑ دیا اور حساس مقامات پر کڑی نگرانی رکھی گئی ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر بھاری پولیس تعینات کی گئی تھی ۔ تا ہم انتخابی عمل پر امن طور پر مکمل ہوا۔ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان یہ اتحاد جہاں سیاسی حلقوں کیلئے حیران کن ہے ، وہیں سیاسی مبصرین اسے مقامی سطح پر بدلتی سیاسی مساوات کا اشارہ قرار دے رہے ہیں ۔ فی الحال کاغذ نگر میں اس نئے سیاسی تجربہ پر عوام اور سیاسی جماعتوں کی نظریں مرکوز ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ یہ اتحاد مستقبل میں کیا رخ اختیار کرتا ہے۔ دوسری طرف بی آر ایس کے قائدین نے کاغذ نگر میں بی جے پی اور کانگریس میں اتحاد پر شدید تنقید کی ہے اور دونوں جماعتوں کو ایک سکہ کے دو رخ قرار دیا ہے۔ بی آر ایس کا کہنا ہے کہ سیاسی مفادات کیلئے یہ اتحاد کیا گیا ہے۔ریاست میں اس مرتبہ بلدی انتخابات کے دوران کافی حیران کن سیاسی سرگرمیاں دیکھی گئیں۔