تدریسی و دیگر اسٹاف کی لاپرواہی پر سوالیہ نشان ، اولیاء طلبہ میں مایوسی
کاغذ نگر۔کاغذ نگر کے گورنمنٹ ڈگری کالج کے سائن بورڈ پر اردو تحریر کیے جانے پر اردوداں طبقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، دوسری طرف ڈگری کالج کے سائن بورڈ پر اردو الفاظ گورنمنٹ کو گوٹ لکھتے ہوئے اردو زبان کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ جس کی وجہ سے مقامی اولیاء طلباء اوراردوداںطبقہ کی جانب سے ڈگری کالج کے اسٹاف کی لاپروائی پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ ڈگری کالج میں قابلیت رکھنے والے لیکچرموجودہونے کے باوجود ڈگری کالج کے سائن بورڈ پر اردو غلطیاں رہنے پر مقامی اردو داں طبقے میں مایوسی اور برہمی پائی جاتی ہے،کیونکہ جس جگہ سے بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے. وہاں سے ہی غلطیوںکاآغازہواتوتعلیم کس طرح سے دی جائیگی۔کاغذ نگر ڈگری کالج کے ذمہ داروں نے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گورنمنٹ لفظ کو گوڈ لکھتے ہوئے معنوں میں تبدیلی کر دی گئی، کالج انتظامیہ کی معنی خیز لاپرواہی کی وجہ سے مقامی اردوداں طبقے میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ گورنمنٹ ڈگری کالج کاغذ نگر میں امبیڈکراوپن یونیورسٹی اردو کا فاصلاتی سنٹر بھی موجود ہے، اور تعجب کی بات یہ ہے کہ کچھ دن قبل مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی فاصلاتی سنٹر کو منظور کرنے کی غرض سے مانو یونیورسٹی ٹیم کی جانب سے گورنمنٹ ڈگری کالج کاغذنگر کا دورہ کرتے ہوئے ڈگری کالج کا تفصیلی طور پر جائزہ لیا گیا تھا، تاکہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا فاصلاتی سنٹر کی منظوری کرنے پر مقامی اردو دان طبقے کا فائدہ ہو سکے ، لیکن کالج کے باب داخلہ پر ہی کالج کے بورڈ پر اردو میں گورنمنٹ لکھنے کے بجائے گوٹ لکھتے ہوئے اردو زبان کے ساتھ اور اردو والوں کے جذبات کے ساتھ کھیلواڑ کیا گیا، اس لیے مقامی عوام اور خصوصی طور پر اردو داں طبقے کی جانب سے گورنمنٹ ڈگری کالج کے ذمہ داروں اور اردو کا درد رکھنے والے ہمدردوں سے پرزور مطالبہ ہے کہ گورنمنٹ ڈگری کالج کے سائن بورڈ پر کی گئی غلطیوں کو درست کرتے ہوئے اردو زبان کے ساتھ انصاف کرنے کا مطالبہ کیا گیا، ورنہ ریاستی حکومت کی جانب سے اردو کو سرکاری زبان درجہ دوم دیے جانے کے اعلانات کے عملی اقدامات غلط ثابت ہوں گے۔
