کافی کی صنعت کے کاشتکاروں کو شراکت دار بنانے کی تجویز

   

نئی دہلی، 14 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) صنعت و تجارت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے منگل کو کہا کہ کافی صنعت کو منافع بخش مصنوعات پر زور دیتے ہوئے اپنے منافع میں کسانوں کو بھی شراکت دار بنانا چاہیے ۔مسٹر گوئل نے اگلے سال بنگلور میں ہونے والی بین الاقوامی کافی کانفرنس سے قبل یہاں منعقد ایک تقریب میں کہا کہ کافی صنعت کا کاروبار پوری دنیا میں ہیں اور ہندوستانی کافی صنعت میں اہم شراکت دار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ہندوستانی کافی پسند کی جاتی ہے ۔ صنعت کو اختراعات کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستانی کافي کا ایک برانڈ تیار کرنی چاہئے ۔ کافی کی مصنوعات کو زیادہ منافع کیا جانا چاہئے جس سے اس کے کاروبار کا دائرہ بڑھ سکے ۔انہوں نے کہا کہ کافی صنعت کو کسانوں کے مفادات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے اور کاروبار کے منافع میں شراکت دار بنانا چاہئے ۔ تقریب میں کرناٹک کے کامرس اینڈ انڈسٹری وزیر جگدیش شیٹر اور مرکزی کامرس سکریٹری انوپ ودھاون بھی موجود تھے ۔مسٹر گوئل نے کہا کہ کافی کے ہر کپ کی قیمت ایک روپیہ مزید کیا جا سکتا ہے اور اس سے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کیا جا سکتا ہے ۔ اس سے کافی کسانوں اور ان کے اہل خانہ کے معیار زندگی کو بہتر ہوگا ۔ انھوں نے کانفرنس کے انعقاد میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی کافی صنعت کے لئے بڑا موقع ہے جس کا پورا فائدہ اٹھایا جائے گا۔بنگلور میں ہونے والی کافی کانفرنس میں 76 ممالک کے 1000 سے زیادہ نمائندے حصہ لیں گے ۔ ان میں کافی کسان، برآمد کار، سرکاری-نجی شعبے کے نمائندے اور بین الاقوامی ادارے حصہ لیں گے ۔