کالجس اور یونیورسٹیز کی کشادگی کے موقع پر تمام تر احتیاطی اقدامات

,

   

وائس چانسلرس کو ریاستی گورنر ڈاکٹر سوندرا راجن کی ہدایت، طلبہ کی صحت پر خصوصی توجہ، کوویڈ قواعد پر عمل آوری
حیدرآباد۔ گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے ریاست کی تمام یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس اور رجسٹرارس کو ہدایت دی کہ یکم فروری سے کیمپس کی کشادگی کے موقع پر طلبہ کے تحفظ کیلئے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ گورنر نے کہا کہ طلبہ کی صحت، تحفظ اور ذہنی و غذائی اعتبار سے سیفٹی کی غیر معمولی اہمیت ہے ایسے وقت جبکہ یکم فروری سے باقاعدہ کلاسیس کا آغاز ہونے جارہا ہے تمام یونیورسٹیز کو احتیاطی تدابیر پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ گورنر نے یونیورسٹیز وائس چانسلرس اور رجسٹرارس کے ساتھ کالجس کے آغاز کے سلسلہ میں کورونا احتیاطی تدابیر کا جائزہ لیا۔ گورنر نے کہا کہ مرکز اور ریاست کی جانب سے کورونا پر قابو پانے کے اقدامات اور ویکسین کی ایجاد کے نتیجہ میں کالجس کی کشادگی عمل میں لائی جارہی ہے۔ ہمیں طلباء کی صحت اور ان کے تحفظ کیلئے چوکس رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کیمپس میں حکومت کے تمام احتیاطی تدابیر جیسے سماجی فاصلہ، ہاتھ دھونے کی سہولت، ماسک کے استعمال، سینٹائزرس کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔ گورنر نے آن لائن کلاسیس اور امتحانات کے انعقاد کے ذریعہ نتائج کے اعلان پر وائس چانسلر کی ستائش کی اور کہا کہ اس سے کورونا وباء کے باوجود طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد ملے گی۔ گورنر نے کہا کہ تلنگانہ ملک کی اولین ریاستوں میں شامل ہے جہاں آن لائن کلاسیس کا آغاز کیا گیا۔ ہمیں کیمپس کو محفوظ بناتے ہوئے دوسروں کیلئے رول ماڈل بننا چاہیئے تاکہ معیاری تعلیم کا سلسلہ جاری رہے۔ گورنر نے یونیورسٹیز کو مشورہ دیا کہ وہ طلبہ کی ہیلت پروفائیل کے مطابق انہیں بہتر خدمات فراہم کرے ۔ گورنر نے کہا کہ مستقبل میں مزید وباؤں کی ماہرین نے پیش قیاسی کی ہے۔ ایسے میں طلبہ کا ہیلت پروفائیل صحت کے تحفظ میں اہم رول ادا کرے گا۔ حکام اور ٹیچرس کو طلبہ پر مسلسل نگرانی رکھنی چاہیئے تاکہ وہ احتیاطی تدابیر کی پابندی کریں۔ انہوں نے کہا کہ کلاسیس میں شرکت کرنے والے طلبہ کا حوصلہ بڑھایا جائے اور انہیں ذہنی طور پر مستحکم رکھا جائے۔ ایسے طلبہ جنکے سرپرست فزیکل کلاسیس میں شرکت کی اجازت نہیں دیں گے ان کیلئے گورنر نے آن لائن کلاسیس جاری رکھنے وائس چانسلرس اور رجسٹرارس کو ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی طالب علم جاریہ تعلیم سے محروم نہ ہونے پائے۔ ہمیں ٹکنالوجی کا استعمال کرنا چاہیئے۔ ڈیجیٹل کلاس روم تیار کئے جائیں اور سوشیل میڈیا پلیٹ فارم کا بہتر استعمال کیا جائے۔ آن لائن کلاسیس سے محروم طلبہ کیلئے بھی خصوصی منصوبہ تیار کیا جانا چاہیئے۔ گورنر نے امید ظاہر کی کہ تلنگانہ ریاست معیاری تعلیم کی فراہمی میں ملک میں سرفہرست رہے گی۔ اسپیشل چیف سکریٹری چترارامچندرن نے بتایا کہ طلبہ کیلئے باقاعدہ کلاسیس میں شرکت لازمی نہیں ہے اور اسکول کی سطح پر امتحانات کیلئے حاضری کا لزوم نہیں رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ فزیکل کلاسیس سے دور رہنے والے طلبہ کیلئے آن لائن کلاسیس کے انتظامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت کی کوویڈ گائیڈ لائنس پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی صحت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ سینئر آئی اے ایس عہدیدار اروند کمار جو عثمانیہ یونیورسٹی کے انچارج وائس چانسلر ہیں تجویز پیش کی کہ ہاسٹلس کی کشادگی کیلئے ریاستی سطح پر پالیسی مرتب کی جائے۔ بجائے اسکے کہ یونیورسٹیز کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے۔ جے این ٹی یو حیدرآباد کے انچارج وائس چانسلر جیش رنجن نے کہا کہ یونیورسٹی نے 261 ملحقہ کالجس کے ساتھ تال میل کا آغاز کیا ہے۔ اس موقع پر اسپیشل چیف سکریٹری چترا رامچندرن کے علاوہ یونیورسٹیز کے انچارج وائس چانسلرس اور رجسٹرارس موجود تھے۔