کالج کی تعلیم میں تلنگانہ کی مسلم لڑکیاں قومی سطح پر سرفہرست

   

کالجس کے داخلوں میں 27 فیصد کی اضافہ، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف دلت اسٹیڈیز کی رپورٹ

حیدرآباد۔ 2 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں گرلز میناریٹی ریسیڈینشیل اسکولس و کالجس کے شاندار نتاج برآمد ہو رہے ہیں۔ تلنگانہ کو مسلم گرلز کالج ایجوکیشن میں قومی سطح پر پہلا مقام حاصل ہوا ہے۔ کالجس میں داخلوں کے تعلق سے قومی سطح پر مسلم لڑکیوں کی شرح 3 فیصد ہے جبکہ تلنگانہ میں یہ شرح 27 فیصد ہے۔ اس طرح تلنگانہ میں مسلم لڑکیوں کی تعلیم میں 10 فیصد اضافہ ہوا جبکہ قومی سطح پر 3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حکومت تلنگانہ نے سماج کے تمام غریب طلبہ کو کارپوریٹ طرز کی تعلیم سرکاری اسکولس میں مفت فراہم کرنے کے لئے ایس سی ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کئے ہیں جس سے طلبہ کا مستقبل تابناک ہو رہا ہے۔ بالخصوص مسلم لڑکیوں کے تعلیمی تناسب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ متحدہ آندھرا میں صرف 12 میناریٹی ریسیڈنشیل اسکولس قائم تھے جہاں مناسب بنیادی سہولتیں بھی نہیں تھیں۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے اقلیتی ریسیڈنشیل اسکولس کی تعداد کو 204 تک پہنچا دیا ہے جس میں لڑکیوں کیلئے 97 اسکولس ہیں۔ ان اسکولس کو جونیر کالجس کی حیثیت سے بھی ترقی دیتے ہوئے مفت تعلیم، طعام و قیام کی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ ان اسکولس میں وسیع کلاس رومس، لائبریریز، کمپیوٹر لیابس، عصری جم وغیرہ کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ تعلیم کے ساتھ کلچرل پروگرامس میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ کمیونکیشن اسکلس، سافٹ اسکلس کو فروغ دینے میں مکمل تعاون و اشتراک کیا جارہا ہے۔ حکومت کی حوصلہ افزائی سے مسلم طالبات کی خواندگی شرح میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے۔ 2014-15 اور 2019-20 میں کے نیشنل فیملی ہیلت سروے کے اعداد و شمار میں مسلم طالبات کی تعلیمی ترقی اس کا ثبوت ہے۔ ان دونوں سروے کے اعداد و شمار کا انڈین انسٹی ٹیوٹ آف دلت اسٹڈیز نے جائزہ لیا جس کی رپورٹ چونکادینے والی ثابت ہوئی ہے۔ کالج سطح کی تعلیم میں تلنگانہ کی مسلم لڑکیاں سارے ملک میں سرفہرست ہیں۔ ن