کالیشورم پراجکٹ سب کچھ نہیں، نظام دکن نے پہلے تاریخ بنائی

   

Ferty9 Clinic

دنیا کا سب سے بڑا آبپاشی پراجکٹ نظام حیدرآباد کا کارنامہ
1923 میں نظام ساگر پراجکٹ کی تعمیر،2لاکھ 75 ہزار ایکر اراضی کو سیرابی

حیدرآباد۔/22 جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کالیشورم پراجکٹ کو دنیا کا سب سے بڑا لفٹ اریگیشن پراجکٹ قرار دیتے ہوئے کے سی آر کیلئے عالمی ریکارڈ کے طور پر پیش کررہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی پراجکٹ کی تعمیر کا سہرا آصف جاہ سابع نواب میر عثمان علی خاں کے سر جاتا ہے جنہوں نے 1923 میں نظام ساگر پراجکٹ تعمیر کیا تھا۔ نظام حیدرآباد کی دوراندیشی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اُس دور میں کم آبادی کے باوجود انہوں نے دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی پراجکٹ کی تعمیر کا فیصلہ کیا جو اپنی تعمیر کی سنچری کی تکمیل کے قریب ہے اور 95 سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود آج بھی کئی اضلاع کی پینے کے پانی اور آبپاشی کی ضرورت کی تکمیل کررہا ہے۔ نظام حیدرآباد کے اس کارنامہ کو اس لئے بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ نظام نے کسی بینک، ادارہ یا مرکز سے قرض حاصل کرتے ہوئے یہ پراجکٹ تعمیر نہیں کیا بلکہ حکومت کے اپنے خزانہ سے یہ تعمیر کیا گیا برخلاف اس کے کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر سے سرکاری خزانہ پر تقریباً ایک لاکھ کروڑ کا بوجھ عائد ہوا ہے، اس میں زیادہ تر رقم مختلف بینکوں سے بطور قرض حاصل کی گئی ہے۔ حکمرانوں کی رعایا پروری اور دور اندیشی میں سابق ریاست حیدرآباد کی مملکت آصفیہ کا کوئی جواب نہیں۔ آج کے حکمراں رعایا پروری کے دعوے تو کرتے ہیں لیکن ان کے پراجکٹس سے عوام پر قرض کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے جو قرض حاصل کیا اُس کی ادائیگی عوام سے ٹیکسوں کے ذریعہ رقم حاصل کرتے ہوئے کی جائے گی۔ نظام ساگر ڈیم دریائے منجیرا پر تعمیر کیا گیا جو گوداوری سے مربوط ہے۔ یہ تلنگانہ کے کاماریڈی ضلع میں اچم پلی اور بجنے پلی مواضعات کے درمیان تعمیر کیا گیا جو حیدرآباد سے 144 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ نظام ساگر تلنگانہ کا سب سے قدیم ڈیم ہے۔40 مواضعات کا تخلیہ کرتے ہوئے ڈیم کی تعمیر عمل میں آئی۔ نظام ساگر کی تعمیر سے پہلے منجیرا کے پانی کا بہتر استعمال کا کوئی نظم نہیں تھا۔ گھن پور آیا کٹ سے پانی منتقل کرتے ہوئے صرف 5000 ایکر اراضی کو سیراب جارہا تھا۔ یہ آیاکٹ 1904 میں 18 لاکھ کے صرفہ سے تعمیر کیا گیا۔ چند برسوں بعد نواب علی نواز جنگ بہادر نے سپرنٹنڈنگ انجینئر کی حیثیت سے پانی کے استعمال میں اضافہ کے قدم اٹھائے۔ گھن پور آیا کٹ کے تحت 17308 ایکر اراضی کو سیراب کیا جانے لگا بعد میں یہ بڑھ کر 30,000 ایکر تک پہنچ گیا۔1923 میں نظام ساگر کے تعمیری کام کا آغاز ہوا اور 1931 میں پراجکٹ کی تکمیل ہوئی۔ یہ پراجکٹ 58 ٹی ایم سی پانی کے استعمال کے ذریعہ 2 لاکھ 75 ہزار ایکر اراضی کو سیراب کرنے کے نشانہ کے تحت تعمیر کیا گیا۔ یہ اراضی بانسواڑہ، بودھن ، نظام آباد اور آرمور تعلقہ جات کے تحت ہے۔ 1956 میں ریاستوں کی تنظیم جدید کے بعد منجیرا طاس کو تین ریاستوں مہاراشٹرا، کرناٹک اور تلنگانہ میں تقسیم کردیا گیا۔ تینوں ریاستوں میں مختلف آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر عمل میں آئی۔ منجیرا اور سنگور کے ذریعہ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے پینے کے پانی کی ضرورت کی تکمیل کی جاتی ہے۔