کانگریس دور حکومت میں پراجکٹس کی تعمیر، ریاست کے سرکاری دواخانے طبی سہولتوں سے محروم
حیدرآباد۔ 2 ستمبر (سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے الزام عائد کیا کہ کالیشورم پراجکٹ میں 80 ہزار کروڑ روپئے کی بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ وینکٹ ریڈی نے سرکاری دواخانوں میں طبی سہولتوں کا جائزہ لینے کے لیے ورنگل ایم جی ایم ہاسپٹل کا دورہ کیا۔ انہوں نے مریضوں سے ملاقات کرتے ہوئے طبی سہولتوں کی فراہمی کے بارے میں استفسار کیا۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ ریاست بھر میں وبائی امراض کے سبب لاکھوں افراد پریشان ہیں لیکن کے سی آر حکومت کو عوامی صحت کی کوئی فکر نہیں۔ چیف منسٹر کی جانب سے ایک بھی جائزہ اجلاس منعقد نہیں کیا گیا۔ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی جانب سے تلنگانہ کے مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے سرکاری دواخانوں میں طبی سہولتوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ ری ڈیزائننگ کے نام پر کے سی آر حکومت آبپاشی پراجیکٹس میں دھاندلیاں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجیکٹ کے لیے کتنی رقم خرچ کی گئی اور کتنا کام مکمل ہوا اس بارے میں تفصیلات عوام میں کے روبرو پیش کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کے ٹینڈرس کے بجائے نامنیشن کی بنیاد پر ہزاروں کروڑ کے کام مختص کیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں کروڑ کی عوامی رقومات ضائع کیا جارہا ہے۔ پراجکٹ کے سلسلہ میں ٹی آر ایس قائدین کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں۔ کانگریس دور حکومت میں جن پراجیکٹس کا سنگ بنیاد رکھا گیا، ٹی آر ایس نے ان کے کاموں کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے جو منصوبہ بندی کی تھی اس کے مطابق کم خرچ پر پراجیکٹس کی تکمیل اور آبپاشی کے لیے پانی سیراب کرنے کی گنجائش تھی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی آبپاشی پراجیکٹس کی بے قاعدگیوں کو بے نقاب کرے گی۔ بھٹی وکرامارکا نے اپنے دورے کے حصے کے طور پر بھوپال پلی کے سرکاری دواخانے کا دورہ کیا۔ انہوں نے ایس ٹی بوائز کے اقامتی اسکول کا معائنہ کرتے ہوئے طلبہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں ایس سی ایس ٹی کے لیے علیحدہ سب پلان مختص کیا جاتا رہا۔ سب پلان کے مطابق بجٹ میں 15 فیصد ایس سی ایس ٹی کو مختص کیا جاتا رہا لیکن ٹی آر ایس حکومت نے ایس سی ایس ٹی سب پلان نظرانداز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی اور ایس ٹی کے اقامتی اسکولوں اور ہاسٹلس میں بنیادی سہولتوں کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو ناقص چاول کی سربراہی کے سبب ان کی صحت متاثر ہورہی ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے اقامتی اسکولوں کے اساتذہ کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
