بی جے پی عوام کو گمراہ کررہی ہے، کے سی آر نے نریندر مودی سے نمائندگی کی تھی
حیدرآباد۔9 اگست (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے سینئر لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ بی ونود کمار نے کہا کہ اگر کالیشورم پراجیکٹ کو قومی درجہ نہیں دیا گیا تو تلنگانہ میں بی جے پی کا نام و نشان نہیں رہے گا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ونود کمار نے بی جے پی قائدین کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ تلنگانہ حکومت نے آج تک مرکزی حکومت سے اس سلسلہ میں نمائندگی نہیں کی۔ ونود کمار نے 11 فروری 2016ء کو کے سی آر کی وزیراعظم سے ملاقات کے موقع پر دیئے گئے مکتوب کی نقل جاری کی۔ جس میں کالیشورم کو قومی پراجیکٹ کا درجہ دینے کی درخواست کی گئی۔ واضح رہے کہ بی جے پی قائدین بارہا کہہ چکے ہیں کہ کالیشورم کے بارے میں تلنگانہ حکومت نے وزیراعظم سے کوئی نمائندگی نہیں کی۔ پراجیکٹ کو قومی درجہ حاصل کرنے کے لیے جس طریقہ سے نمائندگی کی جانی چاہئے، وہ آج تک نہیں ہوئی ہے۔ جبکہ ٹی آر ایس قائدین چیف منسٹر کی جانب سے نمائندگی کا دعوی کررہے ہیں۔ ونود کمار نے بی جے پی کو انتباہ دیا کہ اگر وہ پراجیکٹ کے بارے میں اپنے گمراہ کن بیانات سے باز نہیں آئیں گے تو عوام معاف نہیں کریں گے۔ تلنگانہ میں بی جے پی کا کوئی وجود نہیں رہے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن جماعتیں کالیشورم پر عوام کو گمراہ کررہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کانگریس دور حکومت میں تمڈی ہڈی کے پاس پراجیکٹ کیوں تعمیر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم کے پراجیکٹ کے پانی کو دیکھ کر اپوزیشن کی آنکھیں پھر گئی ہیں۔ جیون ریڈی اور پونالا لکشمیا جیسے قائدین کو کالیشورم پراجیکٹ کا دورہ کرنے کے بعد بیان بازی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے 11 فروری 2016ء کو وزیراعظم کو مکتوب حوالے کیا جس میں پراناہیتا اور کالیشورم پراجیکٹس کی مالیت کا ذکر کیا گیا۔ ونود کمار نے آج کریم نگر کے رامڑگو منڈل کے موضع لکشما پور کے قریب کالیشورم پراجیکٹ کے ٹنل اور پمپ ہائوز کا معائنہ کیا۔ ان کے ہمراہ رکن اسمبلی ایس روی شنکر، رکن کونسل ناراداس لکشمن رائو، سوڈا کے صدرنشین جی وی رام کرشنا، آئی ڈی سی کے صدرنشین شنکر ریڈی، ٹی آر ایس قائدین کے ستیہ نارائن گوڑ اور دوسرے موجود تھے۔
