کاماریڈی سے کے سی آر ، آرمور سے ریونت ریڈی کا مقابلہ!

   

l متحدہ نظام آباد میں انتخابی سرگرمیاں نہایت دلچسپ ممکن
l گھر واپسی کیلئے کانگریس کی کامیاب کوششیں جاری
l پرشانت ریڈی کیخلاف مضبوط امیدوار کی تلاش

نظام آباد۔ 18 جولائی ( محمد جاوید علی کی رپورٹ ) ضلع نظام آباد متحدہ ضلع نظام آباد ، کاماریڈی میں آنے والے انتخابات کو لیکر سرگرمیوں میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ بی آرایس ، بی جے پی کے اہم قائدین سے کانگریس پارٹی کے اعلیٰ قائدین دن بہ دن رابطہ قائم کرتے ہوئے گھر واپسی کی دعوت دے رہے ہیں ۔ کاماریڈی پارٹی سے تعلق رکھنے والے کئی اہم قائدین نے تلنگانہ تحریک کے بعد بی آرایس اور بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی لیکن گذشتہ چند دنوں سے بدلتے ہوئے حالات مرکز میں بی جے پی کی گرتی ہوئی ساکھ ریاست میں بی آرایس حکومت کے خلاف ہونے والی مایوسی خاص طور سے اہم قائدین کو بی آرایس میں صحیح نمائندگی نہ ملنے پر ناراض رہنے والے قائدین سے کانگریس پارٹی رابطہ میں ہے ۔ نظام آباد رورل اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھنے والے سابق ایم ایل سی ارکلہ نرساریڈی جنھوں نے حال ہی میں کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے اور نظام آباد رورل حلقہ سے ٹکٹ کے دعویدار بھی سمجھا جارہا ہے جبکہ نظام آباد رورل حلقہ سے سابق صدر زرعی مارکٹ کمیٹی نظام آباد نگیش ریڈی کے علاوہ سابق ایم ایل سی ڈاکٹر بھوپت ریڈی بھی ٹکٹ کے دعویدار ہیں۔ نظام آباد ضلع کے بالکنڈہ اسمبلی حلقہ سے پرشانت ریڈی یہاں سے مسلسل نمائندگی کررہے ہیں ۔ 2014 ء اور 2018 ء میں دو مرتبہ مسلسل کامیابی حاصل کی ہے اور ان کیخلاف مضبوط امیدوار کی تلاش میں کانگریس پارٹی ہے ، بی آرایس کے ایک سابق لیڈر چند دن تک بی جے پی میں سرگرم تھے اور اب یہ دوبارہ کانگریس میں شمولیت کیلئے کوشاں ہے اور 20 ؍ جولائی کے روز دہلی میں اے آئی سی سی آفس میں راہول گاندھی سے ملاقات کرتے ہوئے کانگریس میں شامل ہورہے ہیں ۔ سنیل ریڈی گذشتہ کئی دنوں سے پردیش کانگریس ریونت ریڈی ، سابق ریاستی وزیر سدرشن ریڈی کے ذریعہ کانگریس میں شامل ہونے کی کوشش کررہے تھے کانگریس ہائی کمان نے انہیں کانگریس میں شمولیت کیلئے منظوری دی ہے اسی طرح نظام آباد کے آرمور میں کانگریس پارٹی کے حالات کو دیکھتے ہوئے پردیش کانگریس کے صدر ریونت ریڈی کو آرمور اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کرنے کی ضلع کے اہم قائدین نے خواہش کی ہے۔ ریونت ریڈی کی خواہش پر سنیل کنگولو کے ذریعہ سروے کرانے کی بھی اطلاعات ہے ۔ اس کے علاوہ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو کاماریڈی سے مقابلہ کرنے کیلئے غور کررہے ہیں ۔ گجویل کے بجائے کاماریڈی سے مقابلہ کرنے کیلئے چیف منسٹر نے سروے بھی کروایا ہے اگر چیف منسٹر چندر شیکھر رائو کاماریڈی سے مقابلہ کرنے کی صورت میں ان کا مقابلہ سابق ریاستی محمد علی شبیر سے ہوگااور ان دونوں کے درمیان کانٹے کے مقابلہ کے امکانات ہوں گے ۔ محمد علی شبیر تقریباً ایک سال سے ہی کاماریڈی اسمبلی حلقہ میں مختلف پروگراموں کے تحت ہر دیہاتوں کا دورہ کرتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں عید اور تہوار کے علاوہ شادی و انتقال پر بھی اہم قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے اس انتخابات میں کامیابی کیلئے حتیٰ الامکان کوشش کررہے ہیں کیونکہ رکن اسمبلی کاماریڈی گمپا گوردھن سے بی آرایس کارکن کے علاوہ عوام بھی ناراض ہے گوردھن سے ملنا چیف منسٹر سے ملنے سے بھی زیادہ مشکل ہے جس کی وجہ سے شبیر علی سیاسی صورتحال کو لیکر عوام کو واقف کراتے ہوئے اپنی کامیابی کیلئے بھی ابھی سے حکمت عملی شروع کرچکے ہیں ۔ ان حالات میں چیف منسٹر کاماریڈی سے مقابلہ کرتے ہیں تو ساری ریاست کی نگاہیں کاماریڈی پر مرکوز رہے گی اور کانٹے کا مقابلہ ہوگا ۔ متحدہ ضلع میں 9 اسمبلی حلقوں میں کامیابی کیلئے کانگریس پارٹی ابھی سے حکمت عملی شروع کردی ہے ۔ آرمور سے ریونت ریڈی ، کاماریڈی سے چندر شیکھر رائو ، مقابلہ کرتے ہیں تو متحدہ ضلع کے انتخابات انتہائی دلچسپ ہونے کے امکانات ہیں ۔