کاماریڈی میونسپلٹی معلق‘سیاسی سرگرمیاں تیز

   

کاماریڈی :14؍ فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کاماریڈی میونسپلٹی میں واضح اکثریت نہ آنے کے باعث سیاسی صورتحال نہایت دلچسپ اور غیر یقینی بن گئی ہے۔ چیئرمین کے عہدہ پر قبضہ کیلئے کسی بھی جماعت کو 25 نشستوں کامیابی درکار ہے۔تاہم کوئی بھی سیاسی جماعت میجک فگر کو پہنچ نہیں پائی کانگریس 19 بی جے پی 16 بی ار ایس 11 تین آزاد امیدوار کامیابی حاصل کی کانگریس اس ہدف کے قریب پہنچنے کے باعث سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی کونسلرس کی جانب سے کانگریس کی حمایت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے نتیجے میں بی آر ایس کے کونسلرس کنگ میکر کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ بی آر ایس جس پارٹی کی حمایت کرے گی وہی چیئرمین کے عہدہ پر فائز ہو سکے گی۔ 16 فروری کو چیئرمین کے انتخاب کو پیش نظر رکھتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے کونسلرس کو محفوظ مقامات اور کیمپوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ وفاداریاں تبدیل نہ ہوں۔دوسری جانب، گزشتہ دس برس تک میونسپلٹی پر حکمرانی کرنے والی بی آر ایس کا اب کسی دوسری جماعت کو اقتدار تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرنا ریاستی سیاست میں بھی موضوع بحث بن گیا ہے۔ کانگریس کو بی آر ایس کی حمایت ملے گی یا نہیں، اس پر سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ادھر کانگریس اور بی جے پی دونوں جماعتیں بی آر ایس کی جانب دیکھنے پر مجبور ہیں، جبکہ ممکنہ حمایت کے بدلے پارٹی کی شرائط کیا ہوں گی، اس پر بھی بحث جاری ہے۔موجودہ‘‘کیمپ سیاست’’اور جوڑ توڑ کے ماحول میں آئندہ دو دنوں کے دوران کسی بھی بڑی سیاسی پیش رفت کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں، جس نے کاماریڈی کی بلدی سیاست کو ریاست بھر میں توجہ کا مرکز بنا دیا ازاد کی حیثیت سے منتخب ہونے والے تینوں ارکان بلدیہ کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور کانگریس پارٹی کو مزید چار ارکان درکار ہے رکن پارلیمنٹ ظہیر اباد کا اوٹ بھی حاصل کیا گیا تو مزید تین ارکان کی تائید ایسی حالت میں کیا بی ار ایس کانگرس کی بل راست طور پر مدد کرتی ہے یا پھر غیر حاضر رہتی ہے یہ سوال اٹھ رہا ہے ابھی کسی بھی سیاسی جماعت کا موقوف سامنے نہیں ایا ہے اور 16 فروری کہ روز چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب ہے۔