ضلع میں کشیدہ حالات کے پیش نظر پولیس سکیورٹی کے سخت انتظامات ، بانسواڑہ روانگی سے بھی قائدین کو روک دیا گیا
کاماریڈی۔ 21 فبروری ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع کاماریڈی میں حالیہ کشیدہ حالات کے پیش نظر پولیس نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے باہر سے آنے والے سیاسی قائدین کے داخلے پر پابندیاں عائد کر دی ہیں اور ضلع کی سرحدوں پر چیک پوسٹیں قائم کر دی گئی ہیں۔ انٹیلی جنس ذرائع نے خبردار کیا تھا کہ بیرونی قائدین کی آمد سے حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں، جس کے بعد پولیس نے ارکانِ پارلیمنٹ، ارکانِ اسمبلی اور ارکانِ قانون ساز کونسل سمیت اہم رہنماؤں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہوئے اُنہیں ضلع میں داخل ہونے سے روکنے کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ضلع کی سرحد بھکنور قومی شاہرہ 44 پر باہر سے آنے والے قائدین کو روک دے رہے ہیں ۔ گزشتہ شب بانسواڑہ ٹاؤن میں دو گروہوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے تھے تاہم پولیس نے فوری مداخلت کر کے صورتحال کو قابو میں کر لیا، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ہفتہ کے روز بانسواڑہ بند کی کال دی گئی ہے۔اسی دوران بند میں شرکت کیلئے سابق رکن اسمبلی یندالا لکشمی نارائن حیدرآباد سے بانسواڑہ روانہ ہوئے تو انہیں ضلع کی سرحد پر تحویل میں لے کر قریبی بھکنور پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے زخمی کارکنوں اور مبینہ طور پر متاثرہ خاتون کی عیادت کیلئے جانے کی اجازت طلب کی تاہم پولیس نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس موقع پر انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں کانگریس کی حکومت قائم ہونے کے بعد بدامنی میں اضافہ ہوا ہے اور پولیس سیاسی دباؤ کے تحت متاثرین کی مدد کے بجائے انہیں ہراساں کر رہی ہے۔ پولیس کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کیلئے حساس علاقوں میں نگرانی مزید بڑھا دی گئی ہے۔دوسری جانب کاماریڈی میں سیاسی کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب رکن اسمبلی وینکٹ رمناریڈی اور کانگریس قائد محمد علی شبیر کے درمیان سرکاری ڈگری کالج کی اراضی کے مسئلہ پر الزامات اور جوابی الزامات نے شدت اختیار کر لی۔ رکن اسمبلی کی تائید میں بی جے پی قائدین کی آمد کے اعلان پر پولیس نے مزید احتیاطی اقدامات کئے۔ اطلاعات کے مطابق ریاستی صدر رام چندر راؤ کو کاماریڈی روانگی سے قبل ہی نظر بند کر دیا گیا جبکہ دیگر قائدین کو بھی ضلع میں داخل ہونے سے روکنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں حیدرآباد سے آنے والے رکن اسمبلی آرمور راکیش ریڈی اور ایم ایل سی انجی ریڈی کو میڈچل کے قریب روک کر واپس بھیج دیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ باہر سے آنے والے سیاسی سرگرمیوں سے حالات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے، اس لئے امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پیشگی اقدامات کئے جا رہے ہیں جبکہ ضلع انتظامیہ مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔