کاماریڈی میں ریل روکو احتجاج کے دوران کشیدگی، کویتا معمولی زخمی

   

احتیاطاً ٹرین روک دی گئی، پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان جھڑپ، تلنگانہ جاگروتی کی صدر و کارکنوں کی گرفتاری و رہائی

کاماریڈی ۔ 28 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کاماریڈی میں تلنگانہ جاگروتی صدر کے کویتا کی قیادت میں بی سی ریزرویشن میں اضافہ کا مطالبہ کرتے ہوئے ریل روکو احتجاج منظم کیا گیا۔ احتجاج کے سبب کاماریڈی ریلوے اسٹیشن کے قریب صورتحال کشیدہ ہو گئی جس کے پیش نظر ریلوے کے ذمہ داروں نے سِرنا پَلّی تا اِندلّوائی کے درمیان گزرنے والی دیوگیری ایکسپریس کو احتیاطی اقدامات کے طور پر روک دیا۔ ریل کی آمد و رفت متاثر ہونے سے مسافروں کو کچھ دیر تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔احتجاجیوں نے کہا کہ بی سی طبقات کی آبادی کے مطابق ریزرویشن میں اضافہ ناگزیر ہے اور حکومت کو فوری طور پر مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔ پولیس نے حالات کو قابو میں رکھتے ہوئے مظاہرین سے بات چیت کی اور صورتحال معمول پر لانے کی کوشش کی۔تاہم احتجاجی اور پولیس کے درمیان دھکم پیل ہو گئی اور اس میں کویتا معمولی زخمی ہو گئی، کویتا کو اے ایس پی چیتنیا ریڈی کی قیادت میں بھاری جمعیت نے یہاں پہنچ کر گرفتار کر لیا اور انہیں کار میں بٹھا کر کاماریڈی سے باہر کرتے ہوئے ایک خانگی ہوٹل میں کچھ دیر توقف کے بعد حیدرآباد روانہ کر دیا۔ جاگروتی کے کارکنوں کو دیون پلی پولیس اسٹیشن منتقل کیا بعد ازاں انہیں بھی رہا کرتے ہوئے احتجاج کے ختم کے بعد ٹرینوں کی آمد کو بحال کیا۔بعدازاں اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کویتا نے واضح کیا کہ آج کا ریل روکو احتجاج صرف تلنگانہ ہی نہیں بلکہ دہلی تک ایک مضبوط پیغام پہنچانے کے لئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو اپنی ہٹ دھرمی ترک کرنی ہوگی۔ بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ کو فوری طور پر استعفے دینا چاہئے اور بی سی برادری کے بچوں کو ان کا حق دلانے کے لئے مرکز پر دباؤ ڈالناہوگا۔ کویتا نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی جان بوجھ کر بی سی برادری کے مفادات کے خلاف رکاوٹیں کھڑی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی سی طلبہ اور نوجوانوں کو جو ریزرویشن دی جانی چاہئے، وہ اب تک نہیں دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اسمبلی سے منظور شدہ بل جو صدر جمہوریہ اور گورنر کے پاس زیر التوا ء ہے۔ اس کے درمیان بی جے پی غیر ضروری رکاوٹیں ڈال رہی ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔انہوں نے بی جے پی سے مطالبہ کیا کہ وہ بی سی برادری کے ساتھ تعصب نہ برتے اور فوری طور پر بی سی طبقے کے لئے 42 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کے مطالبہ کو تسلیم کرے۔ کویتا نے پر زور انداز میں کہا کہ تلنگانہ کی بی سی برادری اپنے حقوق کے حصول کے لئے پرعزم ہیں اور ان کے ساتھ زیادتی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔