چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ اور دعویدار چیف منسٹر ریونت ریڈی میں کانٹے کا مقابلہ ، بی جے پی بھی سرگرم
کاماریڈی :29؍ نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز )کاماریڈی اسمبلی حلقہ پر ساری ریاست کی نگاہیں مرکوز ہے ۔ یہاں سے چیف منسٹر چندر شیکھر رائو ، پردیش کانگریس کے صدر ریونت ریڈی ، بی جے پی کی جانب سے وینکٹ رامنا ریڈی مقابلہ کررہے ہیں ۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر رائو کاماریڈی کے علاوہ گجویل سے اور ریونت ریڈی کاماریڈی کے علاوہ کوڑنگل اپنے آبائی حلقہ سے مقابلہ کررہے ہیں ۔ رامنا ریڈی سال 2018 ء میں بھی یہاں سے مقابلہ کرتے ہوئے 10 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیا تھا لیکن گزشتہ ایک سال سے انتخابی مہم کو جاری رکھے ہوئے تھے چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو اچانک کاماریڈی سے مقابلہ کے اعلان کے بعد یہاں کے سینئر قائد محمد علی شبیر نظام آباد سے مقابلہ کررہے ہیں اور ریونت ریڈی چیف منسٹر کے خلاف مقابلہ کرنے کا اعلان کرتے ہی کاماریڈی میں سیاسی ماحول سرگرم ہوگیا ہے کانگریس کے امیدوار اور ریونت ریڈی چیف منسٹر کے دعویدار ہیںجبکہ چندر شیکھر رائو چیف منسٹر ہیں جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان مقابلہ کانٹے کا ہے وہیں بی جے پی امیدوار ان دونوں کو غیر مقامی قرار دیتے ہوئے مقامی اور غیر مقامی کے درمیان مقابلہ ہے مقامی ہونے کی وجہ سے ووٹ دینے کی خواہش کررہے ہیں ۔کاماریڈی اسمبلی حلقہ میں جملہ 252460 ووٹ ہے جن میں 1,22,019 مرد اور 1,30,417 خاتون ووٹرس ہے اور 24 دیگر ہے اور جملہ 266 پولنگ اسٹیشنس ہے ۔ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو کی جانب سے موجودہ رکن اسمبلی گمپا گوردھن اور اُردو اکیڈیمی کے چیرمین و ضلع بی آرایس صدر ایم کے مجیب الدین مسلسل انتخابی مہم چلارہے ہیں اور چیف منسٹر کی انتخابی مہم میں چیف منسٹر کے فرزند ورکنگ صدر کے ٹی راما رائو ،وزیر داخلہ محمد محمود علی کے علاوہ دیگر اہم قائدین نے انتخابی مہم چلاتے ہوئے کاماریڈی کی مثالی ترقی کیلئے کامیاب بنانے کی خواہش کررہے ہیں۔ کاماریڈی میں انتخابی مہم چلانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھا ۔ پرچہ نامزدگی داخل سے لیکر آخری دن تک وقفہ وقفہ سے حلقہ کا دورہ کرتے ہوئے حکومت کی ناکامیوں کو عوام تک پہنچانے میں کامیاب رول ادا کیا اور ان کے برادر کونڈل ریڈی اور دیگر اہم قائدین یہاں پر قیام پذیر ہیں اور ریونت ریڈی کی کامیابی کیلئے انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں کرناٹک کے رکن اسمبلی رضوان ،سابق رکن اسمبلی سید یوسف علی اور کانگریس کے قد آور شخصیت راہول گاندھی بھی کانگریس کی کامیابی کیلئے انتخابی مہم چلائی ہے ۔ بی جے پی کی جانب سے مقابلہ کرنے والے رامنا ریڈی کی کامیابی کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی کاماریڈی کا دو رہ کرتے ہوئے رامنا ریڈی کی کامیابی کیلئے اپیل کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں کا ذکر کیااور ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا۔ مقامی اور غیر مقامی مسئلہ کو مدعا بناتے ہوئے رامنا ریڈی انتخابی مہم میں چلانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھ رہے ہیں کاماریڈی میں خواتین ووٹرس کی بھی قابل لحاظ تعداد ہے حلقہ میں جملہ 1 لاکھ 30 ہزار 417 خاتون ووٹرس ہے۔یہاں پر تقریباً28 ہزار مسلم ووٹ ہے اور مسلم ووٹ ہی امیدواروں کی کامیابی میں اہم رول ادا کریں گے۔
