پارٹی کارکنوں میں رکن اسمبلی سے ناراضگی، کامیابی کے امکانات پر دوبارہ سروے
حیدرآباد ۔28۔ اگست (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے گجویل اور کاما ریڈی سے اسمبلی چناؤ میں حصہ لینے کے اعلان کے بعد چیف منسٹر دفتر کو کاما ریڈی میں سرگرم کردیا گیا ہے۔ کے سی آر نے چیف منسٹر آفس سے تعلق رکھنے والے سینئر قائدین کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ کاما ریڈی کا دورہ کرتے ہوئے عوامی رجحان کا پتہ چلائیں۔ کاما ریڈی میں عوام کی ضروریات کی نشاندہی کی جائے تاکہ انتخابی مہم کے آ غاز پر حلقہ کی ترقی سے متعلق اعلانات کئے جاسکیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کو گجویل اسمبلی حلقہ سے کامیابی کا یقین ہے تاہم انہوں نے کاما ریڈی کے بارے میں مواضعات کی سطح پر سروے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ دیہی علاقوں میں رائے دہندوں کے رجحان کا اندازہ ہو۔ سروے کیلئے بعض خانگی اداروں کی خدمات حاصل کی گئی ہے ۔ چیف منسٹر آفس کے عہدیدار دیہی علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے بی آر ایس کے مجالس مقامی کے نمائندوں سے ملاقات کررہے ہیں ۔ گزشتہ 10 برسوں میں حکومت کی جانب سے حلقہ کی ترقی کیلئے کئے گئے اقدامات کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ عہدیداروں کو کئی علاقوں میں تلخ تجربہ سے گزرنا پڑا کیونکہ عوام نے موجودہ رکن اسمبلی کی کارکردگی کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ رکن اسمبلی کی عدم کارکردگی کے نتیجہ میں اطراف کے اسمبلی حلقہ جات پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر آفس کے عہدیدار الیکشن شیڈول کی اجرائی سے قبل اپنی رپورٹ پیش کردیں گے۔ دوسری طرف بی آر ایس کے سینئر قائدین کو کاماریڈی میں متحرک کردیا گیا ۔ حال ہی میں ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راو اور رکن کونسل کویتا نے کاما ریڈی کا دورہ کرتے ہوئے کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کیا۔ ایسی گرام پنچایتیں جہاں بی آر ایس کو اکثریت حاصل ہے ، وہاں متفقہ طور پر قراردادیں منظور کی جار ہی ہیں تاکہ چیف منسٹر کے حق میں فضاء کو ہموار کیا جائے۔ دیہاتوںکی سطح پر عوام اور خود پارٹی کارکنوں میں ناراضگی کے سبب کویتا کے پروگرام کو ملتوی کرنا پڑا۔ کئی سرکاری کارپوریشنوں کے صدورنشین نے کاما ریڈی کا دورہ کرتے ہوئے مقامی مسائل کے بارے میں چیف منسٹر کو رپورٹ پیش کی ہے۔ عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ چیف منسٹر کے مقابلہ کی صورت میں کاما ریڈی حلقہ گجویل کی طرح ترقی کرے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی آر ایس کے قائدین اور سرکاری عہدیدار عوام کو یہ تیقن دینے کے موقف میں نہیں ہے کہ دونوں حلقوں سے کامیابی کی صورت میں کے سی آر کاما ریڈی کی نشست برقرار رکھیں گے اور گجویل سے استعفیٰ دیں گے ۔ غالب گمان یہی ہے کہ چیف منسٹر کو اگر دونوں حلقوں سے کامیابی ملتی ہے تو وہ گجویل کی نشست برقرار رکھیں گے اور کاما ریڈی میں اپنے کسی قریبی کو ضمنی چناؤ میں امیدوار بنائیں گے۔
