سماجی فاصلے کے اصولوں کی خلاف ورزیوں کی شکایت ۔بلدیہ نے ماہرین سے رائے طلب کی
حیدرآباد یکم جون(سیاست نیوز) شہر میں کامپلکس کے تجارتی اداروں کے علاوہ چائے کی ہوٹلوں اور ریستوراں کو دوبارہ بند کردیا جائے گا! چائے کی ہوٹلوں کے علاوہ تجارتی کامپلکس میں موجود تجارتی اداروں کو دوبارہ بند کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ ان مقامات پر سماجی فاصلہ کی برقراری کے اصولوں کی دھجیاں اڑائی جانے لگی ہیں اور ہوٹلوں میں جہاں چائے فروخت کی جارہی ہے لوگوں کے ہجوم چائے نوشی کررہے ہیں ۔ علاوہ ازیں چائے نوشی اور سگریٹ نوشی کے علاوہ پان گٹکھا کے استعمال کے ذریعہ سڑکوں پر تھوکنا عام ہوتا جا رہاہے اسی لئے چائے کی ہوٹلوں اور پان شاپس کو دوبارہ بند کرنے پر غور کیا جا رہاہے ۔ تجارتی کامپلکس کے تجارتی اداروں میں سماجی فاصلہ کی برقراری و پارکنگ کے مسائل کو دیکھتے ہوئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے انہیں دوبارہ بند کرنے یا نئے اصول تیار کرنے ماہرین سے رائے طلب کی گئی ہے۔ جگدیش مارکٹ‘ ہری داس مارکٹ‘ سواپنا لوک کامپلکس‘ شینائے شاپنگ سنٹر کے علاوہ شہر کے کئی ایسے تجارتی کامپلکس ہیں جہاں پارکنگ سہولت اور سماجی فاصلہ کی برقراری کے اصولوں کی پابندی نظر نہیں آرہی ہے اور شہر میں تیزی کے ساتھ کورونا مریضوں میں اضافہ شہریوں کیلئے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ مدینہ مارکٹ اور پتھر گٹی پر تجارتی ادارو ںکو بند کرنے کے سلسلہ میں غور کیا جانے لگا ہے کیونکہ اس مصروف بازار میں بھی سماجی فاصلہ اور کورونا سے احتیاط کی کوئی تدابیر اختیار نہ کئے جانے کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں اور مارکٹ کے اندرونی حصوں میں فٹ پاتھ کی تجارت شروع کئے جانے کے سبب فاصلہ کی برقراری نہ ہونے پر حالات مزید ابتر ہونے کا خدشہ پیدا ہوچکا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں کورونا وائرس کے نئے مریضوں کی توثیق اور تعداد میںاضافہ نے محکمہ صحت اور بلدیہ کو تشویش میں مبتلاء کردیا ہے اور وہ اب یہ غور کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ کس طرح سے کورونا کے مریضوں کی تیزی سے بڑھ رہی تعداد پر قابو پایا جاسکے ۔ شہر کے بازاروں میں سماجی فاصلہ کے خیال نہ رکھے جانے کے علاوہ چائے کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کی تجویز کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ مجلس بلدیہ کی جانب سے محکمہ صحت کے ذریعہ یہ تجویز حکومت کو روانہ کی جائیگی اور حکومت صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد قطعی فیصلہ کرے گی۔