کارکنوں کو اکٹھا کرنے میں ناکامی،2 ارکان پارلیمنٹ کی غیر موجودگی پر سوالیہ نشان
حیدرآباد۔/8 جون، ( سیاست نیوز) 12 کانگریس ارکان اسمبلی کے ٹی آر ایس میں انضمام کے خلاف احتجاج کے موقع پر پارٹی قائدین میں تال میل کی کمی صاف طور پر دکھائی دے رہی تھی۔ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد بھی کانگریس قائدین نے سبق نہیں لیا۔ لوک سبھا انتخابات میں اگرچہ 3 نشستوں پر عوام نے کامیابی دلائی اس کے باوجود پارٹی قائدین باہمی اتحاد کے مظاہرہ کے بجائے ابھی بھی گروہ بندیوں کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ کانگریس کے داخلی خلفشار کا چیف منسٹر کے سی آر نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ کانگریس اعلیٰ کمان کو بھی تلنگانہ کے اُمور سے کوئی خاص دلچسپی دکھائی نہیں دیتی لہذا کسی متحرک انچارج جنرل سکریٹری کے تقرر کے بجائے موجودہ انچارج آر سی کنٹیا کو برقرار رکھا گیا ہے جو قائدین کو متحد کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ 12 ارکان اسمبلی کے انضمام کے خلاف سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے آج سے 36 گھنٹے طویل بھوک ہڑتال کا آغاز کیا لیکن بھوک ہڑتالی کیمپ میں پارٹی کارکنوں کی تعداد انتہائی کم دیکھی گئی جو پارٹی قائدین میں تال میل کی کمی کا نتیجہ ہے۔ کسی بھی پروگرام کو طئے کرنے سے قبل مختلف محاذی تنظیموں کے ذمہ داروں کو طلب کرتے ہوئے کارکنوں کو اکٹھا کرنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے لیکن جنرل سکریٹری انچارج آر سی کنٹیا نے اس طرح کا کوئی اجلاس طلب نہیں کیا جس کے نتیجہ میں آج بھوک ہڑتالی کیمپ پر کارکنوں کی تعداد مایوس کن رہی۔ چند ایک سینئر قائدین اظہار یگانگت کیلئے بھوک ہڑتالی کیمپ پہنچے لیکن ان کے ساتھ کارکنوں کی بھیڑ نہیں تھی۔ حیدرآباد جہاں بھوک ہڑتال کی جارہی ہے کانگریس کارکنوں کی بے حسی پر قائدین حیرت زدہ تھے۔ موسم میں بہتری کے باوجود کارکنوں کی عدم شرکت سے پتہ چل رہا تھا کہ قائدین میں تال میل کی کمی ہے اور شہر سے تعلق رکھنے والے قائدین نے بھی کارکنوں کو جمع کرنے کی کوئی مساعی نہیں کی۔ اس سلسلہ میں بعض سینئر قائدین نے آر سی کنٹیا کی توجہ مبذول کرائی اور کم از کم بھوک ہڑتال کے دوسرے دن زائد تعداد میں کارکنوں کی موجودگی یقینی بنانے کی خواہش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ دوسرے دن کیلئے منصوبہ تیار کیا گیا جس کے تحت بھٹی وکرامارکا کے ضلع کھمم سے بھی بڑی تعداد میں پارٹی کارکن اور ان کے حامی حیدرآباد پہنچیں گے۔ کانگریس ارکان اسمبلی کے انحراف کے خلاف بھٹی وکرامارکا نے منحرف ارکان کے اسمبلی حلقوں میں جمہوریت بچاؤ یاترا کا آغاز کیا تھا لیکن اس یاترا میں بھی پارٹی کے سینئر قائدین شامل نہیں ہوئے۔ بھوک ہڑتال اور گزشتہ دو دن سے جاری احتجاج کے دوران ارکان پارلیمنٹ ریونت ریڈی اور کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کی عدم موجودگی پارٹی حلقوں میں بحث کا موضوع بن چکی ہے۔ یہ قائدین جو حکومت کے خلاف شدت سے آواز اُٹھانے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن سی ایل پی کے انضمام جیسے سنگین مسئلہ پر بھی وہ احتجاج میں شامل نہیں ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں قائدین اپنے اضلاع میں منڈل پریشد صدور کے انتخاب میں مصروف ہیں۔ ویسے بھی پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے انہیں شرکت کیلئے دعوت نہیں دی گئی۔ پارٹی قائدین نے بے چینی کو دیکھتے ہوئے قیادت میں دونوں ارکان پارلیمنٹ سے ربط قائم کیا اور توقع ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوسرے دن ارکان پارلیمنٹ شریک ہوں گے۔
