عوام تبدیلی کے حق میں، کانگریس کو 70 تا 80 نشستوں پر کامیابی یقینی، رکن پارلیمنٹ وینکٹ ریڈی کا دعویٰ
حیدرآباد۔/25 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ اسمبلی چناؤ کیلئے کانگریس پارٹی کے امیدواروں کی دوسری فہرست تیار کی جارہی ہے اور توقع ہے کہ 26 اکٹوبر کو فہرست جاری کی جائے گی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وینکٹ ریڈی نے کہا کہ 6 نشستوں پر مقابلہ کے سلسلہ میں قائدین میں کافی مسابقت ہے جس کے نتیجہ میں ہائی کمان کو امیدوار کے انتخاب میں دشواری ہورہی ہے۔ ان اسمبلی حلقہ جات میں دو یا تین مضبوط دعویدار ہیں۔ اسی دوران نلگنڈہ سے تعلق رکھنے والے بی آر ایس کے قائدین نے وینکٹ ریڈی کی قیامگاہ جوبلی ہلز پہنچ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس موقع پر وینکٹ ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور بی آر ایس کی جانب سے بڑے پیمانے پر قائدین کانگریس میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی نے کانگریس میں شمولیت کے بارے میں ان سے کوئی بات چیت نہیں کی اور ان کا اپنا فیصلہ ہے۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ کانگریس ہائی کمان سے مشاورت کے بعد انہوں نے پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازو جماعتوں کو 4 نشستیں الاٹ کی جاسکتی ہیں۔ بائیں بازو کی جماعتیں مریال گوڑہ کی نشست کا مطالبہ کررہی ہیں لیکن وہاں بائیں بازو کے حق میں ووٹ کس حد تک منتقل ہوں گے اس بارے میں کہا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازو سے مفاہمت کے مسئلہ پر بہت جلد صورتحال واضح ہوگی، کانگریس ہائی کمان مجھے جس حلقہ سے ہدایت دے گا مقابلہ کیلئے تیار ہوں۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو 70 تا 80 نشستوں پر کامیابی یقینی ہے۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ عوام تبدیلی کا فیصلہ کرچکے ہیں اور کانگریس پارٹی کا اقتدار یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک کی طرح تلنگانہ میں کانگریس برسراقتدار آتے ہی 6 ضمانتوں پر عمل آوری کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سنٹرل الیکشن کمیٹی امیدواروں کی دوسری فہرست پر سرگرم مشاورت میں مصروف ہے اور کامیابی کی اہلیت رکھنے والے امیدواروں کو ترجیح دی جائے گی۔ وینکٹ ریڈی نے بتایا کہ کالیشورم پراجکٹ میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کرچکے ہیں۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ کے ٹی آر کو راہول گاندھی پر تنقید کا اخلاقی حق نہیں پہنچتا۔ راہول گاندھی کے خاندان کیلئے گھر تک نہیں ہے جبکہ کے ٹی آر کے اثاثہ جات میں کافی اضافہ ہوچکا ہے۔