گچی باؤلی کی 400 ایکر اراضی کا بہت بڑا اسکام ، بی جے پی ایم پی بھی ملوث ، عنقریب تفصیلات منظر عام پر لاؤں گا
حیدرآباد۔ 9 اپریل (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے تارک راما راؤ نے ریونت ریڈی کو کانگریس اور بی جے پی کا مشترکہ چیف منسٹر قرار دیتے ہوئے کہا کہ گچی باؤلی سے متعلق 400 ایکر اراضی کا معاملہ بہت بڑا اسکام ہے جس کے پیچھے بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ بھی ہیں۔ انہوں نے بہت جلد اس اسکام کا پردہ فاش کرنے کا اعلان کیا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت کو مرکزی حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے جس کی وجہ سے تلنگانہ میں ہونے والے بدعنوانیوں اور کرپشن کو مرکزی حکومت نظرانداز کررہی ہے۔ حیدرآباد کے نندی نگر میں واقع اپنی قیام گاہ میں میڈیا سے غیررسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے خود تلنگانہ میں ’’آر آر ٹیکس‘‘ وصول کرنے کا الزام عائد کیا تھا مگر اس کے خلاف آج تک کوئی تحقیقات نہیں کروائی گئی۔ مرکزی حکومت کے کنٹرول میں رہنے والی سنٹرل یونیورسٹی کی اراضی کو ریاستی حکومت نیلام کررہی ہے اور مرکزی حکومت تماشہ دیکھ رہی ہے۔ اصل میں اس نیلامی کے پیچھے بہت بڑا اسکام پوشیدہ ہے اور اس اسکام میں بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ بھی ملوث ہیں۔ بہت جلد وہ اس کی تفصیلات منظر عام پر لائیں گے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی (ایچ سی یو) اراضیات کے معاملے میں طلبہ اور رضاکارانہ تنظیموں نے احتجاج کیا۔ اس احتجاج کی بی آر ایس نے قیادت نہیں کی، صرف تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ، طلبہ سے مقدمات سے دستبرداری کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اب تک جو کچھ بھی نقصانات ہوئے، اس کیلئے حکومت ذمہ دار ہے۔ جانوروں اور پرندوں کی اموات پر متعلقہ افراد کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں۔ حکومت اس اراضی کو نیلام کرنے کے فیصلے سے فوری دستبردار ہوجائے اور اس وقت تک احتجاج جاری رہے گا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کررہی ہے۔ طلبہ ، خواتین، کسانوں، اقلیتوں، دلتوں، سماج کے تمام طبقات کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز اُٹھا رہی ہے، لیکن حکومت بی آر ایس پر جھوٹے الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں ڈرانے دھمکانے کی کوشش کررہی ہے۔ بی آر ایس پارٹی کا ہر ورکر سپاہی کی طرح کام کرے گا اور عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتا رہے گا۔ 2