کانگریس اور بی جے پی کے ناراض عناصر پر ٹی آر ایس کی نظریں

   

Ferty9 Clinic

حضورآباد میں کامیابی پر توجہ، عام انتخابات سے قبل ریاست میں انتخابی ماحول گرم

حیدرآباد۔/22 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اسمبلی کی محض ایک نشست کیلئے ضمنی چناؤ قریب ہے لیکن سیاسی سرگرمیوں نے عام انتخابات کی طرح ماحول کو گرما دیا ہے۔ اسمبلی انتخابات ڈسمبر 2023 میں ہیں لیکن بی جے پی اور کانگریس کی سرگرمیوں میں اچانک شدت نے ساری ریاست کو انتخابی ماحول میں جھونک دیا ہے۔ حضورآباد حلقہ کے ضمنی چناؤ کے سلسلہ میں ٹی آر ایس نے دلت بندھو اسکیم کے نام پر ماحول کو گرمانے کی پہل کی ہے جبکہ بی جے پی کی جانب سے ایٹالہ راجندر نے پہلے ہی انتخابی مہم چھیڑ دی ہے۔ چیف منسٹر نے حضورآباد میں دلت بندھو اسکیم کا آغاز کرکے دلتوں کو ٹی آر ایس کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی ہے۔ ریاست میں ایک طرف ٹی آر ایس تو دوسری طرف بی جے پی پہلے سے سرگرم ہے لیکن پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے ریونت ریڈی کے انتخاب کے بعد ریاست میں سرگرمیاں عملاً انتخابی شکل اختیار کرچکی ہیں۔ بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے نے پدیاترا کا اعلان کیا ہے تو دوسری طرف کانگریس کی جانب سے ہر ضلع میں دلت گریجنا دنڈورا کے نام پر بڑے جلسے منعقد کئے جارہے ہیں۔ ان حالات میں برسراقتدار پارٹی ایک طرف حضورآباد میں کامیابی کیلئے کوئی کسر باقی رکھنا نہیں چاہتی تو دوسری طرف اس کی توجہ اپوزیشن کی سرگرمیوں پر مرکوز ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس قیادت نے کانگریس اور بی جے پی کے ناراض قائدین سے ربط قائم کیا ہے تاکہ انہیں ٹی آر ایس میں شامل کرتے ہوئے اپوزیشن کو کمزور کیا جاسکے۔ کانگریس اور بی جے پی کے ناراض قائدین کو سرکاری عہدوں کا پیشکش کیا جارہا ہے کیونکہ ریاست میں نامزد عہدے طویل عرصہ سے خالی ہیں۔ مختلف کارپوریشنوں کے صدورنشین کے عہدوں کا لالچ دے کر اپوزیشن کے ناراض عناصر کو پارٹی میں شمولیت کی ترغیب دی جارہی ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن کو داخلی انتشار کا شکار بناتے ہوئے حضورآباد میں کامیابی کی راہ باآسانی تلاش کی جاسکتی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی منظوری سے حالیہ عرصہ میں بی جے پی اور کانگریس کے کئی قائدین کو پارٹی میں شامل کیا گیا۔ حضورآباد میں گاؤں کی سطح پر اپوزیشن کانگریس اور بی جے پی کے سرگرم قائدین پر نظر رکھی جارہی ہے۔ ریونت ریڈی کے انتخاب کے بعد کانگریس کے سینئر قائدین اس بات پر ناراض ہیں کہ عوامی جلسوں میں انہیں تقریر سے روکنے کیلئے ریونت ریڈی کے حامی ہنگامہ آرائی کررہے ہیں اور پارٹی میں ون میان شو چل رہا ہے۔ اسی طرح بنڈی سنجے کی پالیسی سے کئی سینئر قائدین ناراض بتائے جاتے ہیں۔ کشن ریڈی اور بنڈی سنجے کی دو علحدہ یاتراؤں سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بی جے پی میں داخلی طور پر ناراض سرگرمیاں موجود ہیں۔ ان حالات میں ٹی آر ایس دونوں پارٹیوں کے ناراض عناصر کو اپنے فائدہ کیلئے استعمال کرسکتی ہے اور اس کے پاس عہدوں کے پیشکش کی گنجائش موجود ہے۔R