کانگریس اور تلگودیشم کو کمزور کرنا سیاسی غلطی، ٹی آر ایس قیادت کا احساس

   

گریٹر انتخابات میں ناقص مظاہرہ پر محاسبہ کا آغاز، مخالف حکومت ووٹ بی جے پی کو منتقل،ٹی آر ایس کے دوبارہ استحکام کی حکمت عملی

حیدرآباد۔ گریٹر بلدی انتخابات میں ناقص مظاہرہ کی وجوہات کا پتہ چلانے کیلئے ٹی آر ایس قیادت نے محاسبہ کا آغاز کردیا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور پارٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے انتخابی نتائج پر سینئر قائدین اور وزراء کے ساتھ تفصیلی طور پر جائزہ لیا۔ رائے دہی کے فیصد میں مجموعی طور پر اضافہ کے باوجود ٹی آر ایس کے حق میں نتائج توقع کے مطابق نہیں رہے۔ گریٹر حیدرآباد میں پہلی مرتبہ بی جے پی نے اس قدر زائد نشستیں حاصل کی ہیں جو بی جے پی قومی قائدین کی انتخابی مہم کا نتیجہ ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق وجوہات کا جائزہ لینے کے دوران قیادت کو اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ تلنگانہ میں کانگریس اور تلگودیشم کے موقف میں کمزوری کا فائدہ بی جے پی نے اٹھایا ہے۔ 2014 میں علحدہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے تلنگانہ میں تلگودیشم اور کانگریس کا موقف کمزور ہوا اور 2018 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرنے والے بیشتر ارکان اسمبلی نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ کانگریس اور تلگودیشم سے منتخب ارکان اسمبلی کے انحراف کے نتیجہ میں ٹی آر ایس اگرچہ کافی مستحکم ہوگئی لیکن ان دونوں پارٹیوں کے روایتی ووٹ بینک کو راغب کرنے میں بی جے پی کامیاب ہوچکی ہے۔ پارٹی قائدین کا احساس ہے کہ 2018 میں پارٹی کو واضح اکثریت کے باوجود کانگریس اور تلگودیشم سے ارکان اسمبلی کو انحراف کیلئے اُکسانا ایک سیاسی غلطی تھی جس کا خمیازہ بلدی انتخابات میں بھگتنا پڑا ہے۔ اگر تلنگانہ میں کانگریس اور تلگودیشم کا موقف بحال ہوتا تو بی جے پی کو قدم جمانے کا موقع نہ ملتا۔ گریٹر بلدی انتخابات میں مخالف حکومت اور ٹی آر ایس سے ناراض رائے دہندوں کیلئے بی جے پی کے علاوہ کوئی متبادل نہیں تھا جس کے نتیجہ میں ٹی آر ایس کے حلقوں سے بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی۔ جائزہ کے دوران اس بات کا نوٹ لیا گیا کہ شہری علاقوں میں حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی میں اضافہ ہوچکا ہے لہذا وجوہات کا پتہ چلانے کیلئے ارکان اسمبلی اور مقامی قائدین کو متحرک ہونا چاہیئے۔ ٹی آر ایس کیلئے انتخابی سروے کا کام انجام دینے والے ماہرین اور سیاسی مبصرین نے بھی یہی نتیجہ اخذ کیا کہ کانگریس اور تلگودیشم کی کمزوری کا بی جے پی کو فائدہ ہوا اور وہ ریاست میں ٹی آر ایس کے متبادل کے طور پر اُبھرنا چاہتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ بی جے پی کا حیدرآباد کے بلدی الیکشن میں جو مظاہرہ رہا وہ ریاست بھر میں ممکن نہیں ہے۔ شہری علاقوں میں بی جے پی کا کیڈر ہے جبکہ دیہی علاقوں میں آج بھی کانگریس اور تلگودیشم کے قائدین اور کارکن کمزور حالت میں ہی موجود ہیں۔ ٹی آر ایس قیادت کو یہ احساس شدت کے ساتھ ہونے لگا ہے کہ سیکولر جماعتوں کو کمزور کرنے کے نتیجہ میں فرقہ پرست بی جے پی کو سر اٹھانے کا موقع ملا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے ورنگل اور کھمم میونسپل کارپوریشنوں کے مجوزہ انتخابات کی حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ دونوں کارپوریشنوں میں بی جے پی کو بہتر مظاہرہ سے روکا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے گریٹر نتائج کے سلسلہ میں کئی سیاسی مبصرین اور اپنے قریبی مشیران سے رپورٹ طلب کی ہے۔ واضح رہے کہ 2018 اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے تقریباً 12 ارکان اسمبلی جبکہ تلگودیشم کے 2 ارکان اسمبلی نے انحراف کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی جس کے بعد سے اسمبلی میں اپوزیشن کی آواز کمزور ہوگئی۔ عوام کو حکومت کے خلاف اظہار ناراضگی کیلئے متبادل کے طور پر بحالت مجبوری بی جے پی کا انتخاب کرنا پڑا۔ نتائج سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ سرکاری ملازمین اور اساتذہ میں حکومت کے بارے میں ناراضگی پائی جاتی ہے جس کا اظہار سرکاری ملازمین کی جانب سے استعمال کئے گئے پوسٹل بیالٹ سے ہوتا ہے جس میں بی جے پی کے حق میں ووٹ دیئے گئے۔ حکومت نے اساتذہ کو انتخابی ڈیوٹی سے دور رکھا باوجود اس کے اساتذہ کی تنظیموں کی جانب سے حکومت کے خلاف رائے دینے کی اطلاعات ملیں۔