پولٹیکل افیرس کمیٹی کا فیصلہ، امیدواروں کا جلد اعلان، حکومت پرضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام
حیدرآباد/10 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس کی انتخابی مہم کے طور پر بس یاترا کے پروگرام کو قطعیت دینے کی ذمہ داری ہائی کمان پر چھوڑ دی گئی ۔ کانگریس پولٹیکل افیرس کمیٹی کا اجلاس آج ہوا جس میں صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی، اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ مانک راؤ ٹھاکرے، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، ارکان پارلیمنٹ کے وینکٹ ریڈی، اتم کمار ریڈی، اے آئی سی سی سکریٹریز روہت چودھری، منصور علی خاں، ومشی چند ریڈی، کے جانا ریڈی، انجن کماریادو، مہیش کمار گوڑ، وی ہنمنت راؤ، بلرام نائیک، پی سرینواس ریڈی، رینوکا چودھری، چنا ریڈی، سمپت کمار و دیگر نے شرکت کی۔ الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد کمیٹی نے حکمت عملی کا جائزہ لیا۔ 15 اکٹوبر سے بس یاترا پر ارکان نے مختلف رائے ظاہر کی جس پر یہ معاملہ ہائی کمان پر چھوڑ دیا گیا ۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے بتایا کہ یاترا میں ملکارجن کھرگے، راہول گاندھی و پرینکا گاندھی نے شرکت سے اتفاق کیا ہے۔ بعض قائدین پہلے مرحلہ میں 15 تا 22 اکٹوبر یاترا کے حق میں ہیں جبکہ دیگر ارکان کی یہ رائے تھی کہ دسہرہ تہوار کے پیش نظر 15 اکٹوبر کے بجائے 25 اکٹوبر سے یاترا کا آغاز کیا جائے اور انتخابات تک مختلف مراحل میں بس یاترا کا اہتمام کیا جائے۔ قومی قائدین کو دیگر 4 ریاستوں میں انتخابی مہم میں حصہ لینا ہے لہذا کانگریس کے امیدواروں کے اعلان کے بعد بس یاترا شروع کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ بعض قائدین نے یاترا میں امیدواروں کے اعلان کی سفارش کی۔ اس پر قطعی فیصلہ ہائی کمان پر چھوڑ دیا گیا اور وہ بس یاترا کی تاریخوں کا تعین کرے گا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ امیدواروں کی فہرست جلد جاری کی جائے گی۔ انہوں نے میڈیا کو فہرست پر قیاس آرائیوں سے گریز کا مشورہ دیا۔ بائیں بازو جماعتوں سے مفاہمت ابھی بات چیت کے مرحلہ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کے اہل مضبوط امیدواروں کو ٹکٹ دیا جائے گا۔ مانک راؤ ٹھاکرے، دیپا داس منشی، میناکشی نٹراجن اور جانا ریڈی کمیٹی میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض عہدیدار بی آر ایس ایجنٹ جیسا کام کررہے ہیں۔ ایسے عہدیداروں کی نشاندہی کرکے الیکشن کمیشن سے شکایت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بعض عہدیدار ضابطہ اخلاق کے باوجود فنڈز جاری کررہے ہیں۔ پنشن کے علاوہ کوئی اور بجٹ الیکشن تک جاری نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس، آئی اے ایس اور ریوینیو عہدیداروں پر کانگریس کی نظر ہے ۔ بعض میڈیا گھرانے کانگریس کے خلاف مہم چلا رہے ہیں جس کی الیکشن کمیشن سے شکایت کی جائیگی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے اور کانگریس برسر اقتدار آنے پر 6 ماہ قبل لئے گئے تمام فیصلوں و ٹنڈرس پر نظرثانی کریگی۔ انہوں نے کہا کہ ورکنگ کمیٹی اجلاس میں راہول گاندھی نے بی سی طبقات کی آبادی کی مردم شماری کے حق میں قرارداد منظور کی تھی۔ پولٹیکل افیرس کمیٹی قرارداد کی تائید کرتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ نچلی سطح سے ڈی جی پی و چیف سکریٹری تک جو بھی قواعد کی خلاف ورزی کرینگے انکے خلاف کمیشن سے شکایت کی جائیگی۔ انتخابی منشور تیاری کمیٹی وسیع مشاورت کے ذریعہ منشور کو قطعیت دے گی۔