کانگریس جب کبھی ریاست میں برسر اقتدار رہی مرکز پر بھی اس نے حکومت کی

   

( نجومیوں کی پیش قیاسی نہیں بلکہ سیاسی حقیقت)
چار دہوں کی تاریخی حقیقت، کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی ؟ بی آر ایس کے حلقوں میں تشویش
حیدرآباد۔/19 ستمبر، ( سیاست نیوز) سیاسی تبدیلیوں کے معاملہ میں عام طور پر سیاستداں نجومیوں اور سیاسی پنڈتوں پر انحصار کرتے ہیں اور ان کی پیش قیاسی یا پیشن گوئی کو حرف آخر تصور کیا جاتا ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش اور موجودہ تلنگانہ کے سیاسی حالات گذشتہ چار دہوں کے دوران نہ صرف دلچسپ بلکہ چونکا دینے والے ثابت ہوئے ہیں۔ کانگریس کے مرکز میں اقتدار کا اندازہ متحدہ آندھرا پردیش کے نتائج سے کیا جاتا تھا اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مرکز میں کانگریس پارٹی کو اقتدار حاصل ہوگا یا نہیں اس کا تھرمامیٹر متحدہ آندھرا پردیش تھا۔ یہ کسی نجومی کی پیشن گوئی یا کسی سیاسی پنڈت کی پیش قیاسی نہیں بلکہ رائے دہندوں کے حقیقت پر مبنی فیصلہ کا نتیجہ تھا کہ جب کبھی متحدہ آندھرا پردیش میں کانگریس برسراقتدار رہی مرکز میں بھی اس کا اقتدار رہا۔ متحدہ آندھرا پردیش میں جب بھی کسی اپوزیشن کو اقتدار حاصل ہوا تو مرکز میں کانگریس اقتدار سے محروم رہی اور بی جے پی یا کسی اور اپوزیشن کو اقتدار کا موقع ملا۔ متحدہ آندھرا پردیش کی تاریخ کیا علحدہ تلنگانہ میں بھی دہرائی جائے گی اس کا فیصلہ تلنگانہ اسمبلی کے مجوزہ انتخابات میں ہوجائے گا۔ نومبر یا ڈسمبر میں اسمبلی انتخابات مقرر ہیں جبکہ آئندہ سال مئی میں لوک سبھا کے انتخابات ہوں گے۔ تلنگانہ میں موجودہ سیاسی صورتحال میں برسراقتدار بی آر ایس اپنی مقبولیت تیزی سے کھونے لگی ہے اور کانگریس کے اچھے دن کی واپسی کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔ رائے دہندوں کی اس بات پر نظر ہے کہ کیا تلنگانہ اور مرکز دونوں جگہ کانگریس کے اقتدار کی تاریخ پھر ایک مرتبہ دہرائی جائے گی؟ ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اقتدار کی ہیٹ ٹرک کیلئے اپنی طاقت جھونک چکے ہیں۔ حکومت نے مختلف طبقات کی تائید حاصل کرنے کیلئے کئی نئی اسکیمات کا اعلان کیا۔ باوجود اس کے بی آر ایس کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے اور کانگریس کے تکو گوڑہ جلسہ عام کی کامیابی سے عوام میں تبدیلی کا رجحان دکھائی دے رہا ہے۔ گذشتہ چار دہوں کی سیاسی تاریخ پر نظر رکھنے والے مبصرین کو تلنگانہ ریاست میں تاریخ کے دہرائے جانے کی امید ہے جبکہ برسراقتدار بی آر ایس قائدین امکانی خطرہ کو محسوس کرتے ہوئے فکرمند دکھائی دے رہے ہیں۔ کانگریس قائدین کو عوامی ردعمل کی بنیاد پر یقین ہے کہ نہ صرف تلنگانہ بلکہ مرکز میں بھی کانگریس کو اقتدار حاصل ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس قائدین اور کیڈر میں جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد کیا چار دہوںکی روایت کا خاتمہ ہوگا یا پھر کانگریس کو دونوں مقامات پر اقتدار کیلئے تلنگانہ ہی نیک شگون ثابت ہوگا۔ ریاست کی تقسیم کے بعد تلنگانہ اور آندھرا پردیش دونوں میں غیر کانگریسی حکومتیں ہیں۔ تلنگانہ میں کانگریس کی واپسی کے امکانات ہیں جبکہ آندھرا پردیش میں اقتدار وائی ایس آر کانگریس یا تلگودیشم کے درمیان رہے گا۔ لہذا سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ریاست اور مرکز میں کانگریس کے اقتدار کیلئے تلنگانہ کی سرزمین ہی فیصلہ کن ثابت ہوگی۔1984 سے 2023 تک کی مرکز اور ریاست میں برسراقتدار پارٹیوں کا جائزہ لیں تو جب کبھی سابق آندھرا پردیش میں کانگریس برسراقتدار رہی، مرکز میں بھی کانگریس کی حکومت تھی۔1984 تا 1989 مرکز میں کانگریس برسراقتدار رہی لیکن آندھرا پردیش میں تلگودیشم کی حکومت تھی۔ روایت سے انحراف صرف ایک مرتبہ دیکھا گیا۔ 1989 سے 1994 تک آندھرا پردیش میں کانگریس برسراقتدار رہی جبکہ مرکز میں کانگریس کی تائید سے 1991 تک اپوزیشن متحدہ محاذ کی حکومت رہی۔ پھر جون 1991 سے مئی 1996 تک پی وی نرسمہا راؤ کی زیر قیادت کانگریس برسر اقتدار رہی۔1994 سے آندھرا پردیش میں تلگودیشم برسراقتدار آئی اور 2004 تک پہلے این ٹی راما راؤ اور پھر چندرا بابو نائیڈو چیف منسٹر تھے۔ اس مدت کے دوران مرکز میں بی جے پی برسراقتدار رہی۔ 2004 سے 2014 تک مرکز اور ریاست میں کانگریس کی حکومت رہی۔ 2014 میں آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد تلنگانہ ریاست کا قیام عمل میں آیا اور نئی ریاست میں بی آر ایس کو اقتدار حاصل ہوا جبکہ مرکز میں بی جے پی برسراقتدار آئی اور دونوں کے اقتدار کی دو میعادیں مکمل ہونے کو ہیں۔ اب جبکہ ڈسمبر سے قبل اسمبلی اور آئندہ سال کے اوائل میں لوک سبھا انتخابات مقرر ہیں‘ مبصرین کو یقین ہے کہ مرکز اور ریاست میں کانگریس کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔