کسانوں کے 20 ہزار کروڑ روپئے قرض معاف کئے گئے ۔ 24 گھنٹے مفت برقی فراہمی
تشکیل حکومت کے ایک سال میں 60 ہزار ملازمتوںکی فراہمی ۔ طلباء و نوجوانوں کی مدد
ایک کروڑ خواتین کو کروڑ پتی بنانے کا عزم ۔ کئی فلاحی اسکیمات جاری بھارت سمٹ سے خطاب
حیدرآباد ۔ 26 اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ سماج کے تمام طبقات کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے کانگریس حکومت کام کررہی ہے۔ ان مقاصد کی تکمیل کیلئے کئی فلاحی اسکیمات کو متعارف کرایا گیا ہے۔ ملک میں سب سے بڑے کسانوں کے قرض کو معاف کرنے کے پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ تاحال 20 ہزار کروڑ روپئے کسانوں کے قرض معاف کئے گئے۔ حیدرآباد کے ایچ آئی سی سی میں منعقدہ بھارت سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریتو بھروسہ اسکیم کے تحت ایک ایکر اراضی کو 12 ہزار روپئے مالی امداد دی جارہی ہے۔ باریک چاول کو 500 روپئے بونس دیا جارہا ہے۔ نوجوان تعلیم حاصل کررہے ہیں مگر انہیں ملازمت حاصل نہیں ہورہی ہے۔ کانگریس حکومت نے نوجوانوں کو خودروزگار فراہم کرنے راجیو یووا وکاسم اسکیم کو متعارف کرایا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس اچھی طرح جانتی ہیکہ عوام کو کس وقت کیا ضرورت ہے اور اسی مناسبت سے اقدامات کرتی ہے۔ عوام کی امیدوں کو پورا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ خاص طور پر طلبہ، نوجوانوں، کسانوں، خواتین اور پسماندہ طبقات کی توقعات کو پورا کرنے عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ 15 اگست 2024ء کو 20,617 کروڑ روپئے کی ادائیگی کے ذریعہ 25 لاکھ 25 ہزار کسانوں کو قرضوں سے مکمل طور پر آزاد کیا گیا۔ یوم آزادی کے موقع پر تلنگانہ کے کسانوں کو قرض سے نجات ملی ۔ ہم اپنی ریاست میں کسانوں کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہ کررہے ہیں۔ اراضی نہ رکھنے والے زرعی مزدور خاندان کو ہر سال فی خاندان 12 ہزار روپئے مالی امداد دی جارہی ہے۔ ریتو بیمہ اور فصل بیمہ کے ذریعہ کسانوں کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ نوجوانوں میں مہارت بڑھانے ینگ انڈیا اسکیل یونیورسٹی کا آغاز کیا گیا۔ کانگریس کو اقتدار کے پہلے سال 60 ہزار سے زائد سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئی۔ پانچ لاکھ نوجوانوں کو فائدہ پہنچانے ’راجیو یووا وکاسم‘ اسکیم کا آغاز کیا گیا۔ عوامی مفاد پر مبنی پالیسیوں کی بنیاد کانگریس نے رکھی ہے۔ ملک کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے آبپاشی اور تعلیم پر توجہ دی۔ اندرا گاندھی نے ’روٹی، کپڑا اور مکان‘ کے نعرے کے ساتھ غربت کے خاتمے کیلئے کام کیا۔ ان کے بعد راجیو گاندھی، پی وی نرسمہاراؤ اور ڈاکٹر منموہن سنگھ نے جدیدیت، ترقی، ٹیلیکام اور سافٹ ویر جیسے شعبوں میں انقلاب لایا۔ ان کی محنت سے بھارت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت میں تبدیل ہوگیا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تعلیم، صحت اور روزگار کو ہماری حکومت میں اولین ترجیح حاصل ہے۔ ہم نے ڈاووس، امریکہ، جنوبی کوریا، جاپان اور سنگاپور میں منعقد ہوئی سرمایہ کاری کانفرنسوں میں شرکت کی جس کے سبب خانگی شعبوں میں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے 2.5 لاکھ کروڑ روپئے سے زائد سرمایہ کاری حاصل ہوئی۔ خواتین، کسان اور نوجوان ہماری حکومت کے بنیادی شراکت دار ہیں۔ ہماری ریاست میں شاندار خواتین صنعتکار موجود ہیں۔ کئی خواتین نے سیلف ہیلپ گروپس تشکیل دیا ہے۔ ہم ایک کروڑ خواتین کو کروڑپتی بنانے کا نشانہ مختص کرکے کام کررہے ہیں۔ خواتین کو سولار پاور پلانٹس، آر ٹی سی بسوں اور پٹرول پمپس کی مالکین بنایا گیا ہماری برقی کمپنیاں خواتین کی سولار پاور کمپنیوں سے 1000 میگاواٹ برقی خریدنے کا معاہدہ کرچکی ہیں۔ خواتین کو 600 آر ٹی سی بسیں الاٹ کی گئی ہیں۔ اندراماں مکانات اسکیم کے تحت پہلے مرحلہ میں 4,50,000 خاندانوں کو ذاتی گھر بنانے 22 ہزار کروڑ روپئے جاری کئے گئے ہیں ۔ آر ٹی سی بسوں میں خواتین کو مفت سفر کی سہولت فراہم کی گئی۔ اس اسکیم پر 15 ماہ میں 5 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ 200 یونٹ تک مفت گھریلو برقی، صرف 500 روپئے گیس سلنڈر اور راشن کارڈس کے ذریعہ باریک چاول سربراہ کیا جارہا ہے۔ راجیو آروگیہ شری اسکیم کو 10 لاکھ روپئے تک توسیع دی گئی۔ موسیٰ ندی کو آلودگی سے پاک بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مستقبل میں موسیٰ ندی کو حیدرآباد کا سب سے بڑا سیاحتی مرکز بنایا جائے گا۔ 30 ہزار ایکڑ اراضی پر ’فیوچرسٹی‘ کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ 370 کیلو میٹر طویل ریجنل رنگ روڈ کی تعمیر اور میٹرو ریل کی توسیع کا آغاز ہوگیا۔ ذات پات پر مبنی سروے کرنے والی تلنگانہ ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایس سی زمرہ بندی کرنے والی بھی تلنگانہ واحد ریاست ہے۔2