کانگریس حکومت نے 6 ضمانتوں کے وعدے کو بھلا دیا : کے ٹی آر

   

غریب لڑکیوں کو ایک تولہ سونے کا انتظار، تانڈور میں انتخابی مہم سے بی آر ایس ورکنگ پریسیڈنٹ کا خطاب
حیدرآباد۔ 8 فروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے نوجوانوں اور کسانوں کے ساتھ کانگریس حکومت کی دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ انتخابات کے دوران جو وعدے کئے گئے تھے انہیں فراموش کردیا گیا ہے۔ کے ٹی آر آج وقار آباد ضلع کے تانڈور میں بی آر ایس کی انتخابی مہم میں حصہ لے رہے تھے۔ کے ٹی آر کے روڈ شو میں عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور جگہ جگہ ان کا استقبال کیا گیا۔ کے ٹی آر نے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ مجالس مقامی چناؤ میں کانگریس کو وعدوں کی عدم تکمیل پر سبق سکھانے کے لئے بی آر ایس امیدواروں کو کامیاب بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ مجالس مقامی میں بی آر ایس کی کامیابی کے بعد ریاست میں پارٹی کا دوبارہ برسر اقتدار آنا یقینی رہے گا۔ اسمبلی انتخابات میں 6 ضمانتوں کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن دو برسوں میں ضمانتوں کو فراموش کردیا گیا ہے۔ ریونت ریڈی نے 100 دن میں وعدوں کی تکمیل کا اعلان کیا تھا لیکن دو سال گذرنے کے باوجود عوام کو جواب دینے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سماج کا ہر طبقہ کانگریس حکومت سے ناراض ہے۔ غریبوں میں بتکماں ساڑیوں کی تقسیم کو روک دیا گیا ہے۔ پنشن کو 4000 روپے کرنے اور غریبوں کی شادی کے موقع پر ایک تولہ سونا اور بیروزگاری الاؤنس کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن آج ان وعدوں کا کوئی تذکرہ تک نہیں ہے۔ ریونت ریڈی پر تنقید کرتے ہوئے کے ٹی آر نے الزام عائد کیا کہ حکمرانی پر توجہ دینے کی بجائے وہ اپوزیشن قائدین کو نشانہ بناتے ہوئے غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تانڈور میں قائم کردہ نرسنگ کالج کو چیف منسٹر نے اپنے حلقہ کوڑنگل میں منتقل کردیا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ رائے دہندوں کو ایک مرتبہ گمراہ کیا جاسکتا ہے بار بار نہیں۔ جاب کیلنڈر کا وعدہ دو برسوں میں پورا نہیں ہوا اور چیف منسٹر بے روزگار نوجوانوں کا سامنا کرنے سے خوفزدہ ہیں۔ 1