اسمبلی کا بائیکاٹ بی آرایس کا غیرذمہ دارانہ رویہ ‘سوریاپیٹ میںکویتا کی پریس کانفرنس
ونلگنڈہ۔4/جنوری( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)تلنگانہ جاگرتی کی صدر کلواکنتلہ کویتا نے الزام عائد کیا ہے کہ پالمورو۔رنگاریڈی آبپاشی منصوبے کے معاملے میں کانگریس حکومت نے اسمبلی میں حقائق کو مسخ کرتے ہوئے کھلے عام جھوٹ بولا۔ سوریاپیٹ میں جاگرتی جنم باٹا پروگرام کے تحت منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر اسمبلی میں اپوزیشن موجود ہوتی تو حکومت کو اس طرح من مانی بیانات دینے کی جرأت نہ ہوتی۔انہوں نے کہا کہ کرشنا ندی کے پانی پر بحث کے نام پر اسمبلی کو گمراہ کیا گیاجبکہ اصل اسٹیک ہولڈرز یعنی مہاراشٹر کرناٹک تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے مفادات پر کوئی سنجیدہ گفتگو نہیں کی گئی۔ کویتا نے مطالبہ کیا کہ المٹی ڈیم کی اونچائی میں اضافے اور اپر تنگابھدرا منصوبے کو قومی درجہ دینے کے خلاف تلنگانہ اسمبلی میں فوری طور پر قرارداد منظور کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک حکومت کی جانب سے المٹی ڈیم کی اونچائی بڑھانے کے سبب تلنگانہ کو مستقبل میں تقریباً 100 ٹی ایم سی پانی کے نقصان کا اندیشہ ہے مگر کانگریس حکومت اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔کویتا نے بی آر ایس کے اسمبلی بائیکاٹ کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ محض ہریش راؤ پر تنقید ہونے پر اسمبلی چھوڑ کر چلے جانا جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ بائیکاٹ ہریش راؤ کا ذاتی فیصلہ تھا یا پارٹی قیادت کا؟ اگر یہ فیصلہ کے سی آر یا کے ٹی آر کا تھا تو یہ تاریخ کی ایک ناقابلِ معافی سیاسی غلطی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں بولنے کا موقع چھوڑ کر باہر پاور پوائنٹ پریزنٹیشنز دینا عوامی مسائل کا حل نہیں ہو سکتا۔کویتا نے ہریش راؤ سے وضاحت طلب کی کہ تلنگانہ کے پانی کے حصہ میں 3 فیصد کمی کرنے والے معاہدے پر کیا اْنہوں نے دستخط کئے ہیں؟کویتا نے سوریاپیٹ ضلع کے متعدد عوامی مسائل اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ادھورے اسپتال، خراب سڑکیں، مشن بھگیرتا کے تحت پینے کے پانی کی قلت تالابوں اور سرکاری زمینوں پر قبضے ڈبل بیڈروم مکانات کی خستہ حالت اور غیر قانونی ریت کانکنی نے عوام کی زندگی کو اجیرن بنا دی ہے۔صدر جاگرتی کویتا نے واضح کیا کہ انہیں کسی رہنما سے ذاتی عداوت نہیں بلکہ وہ بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں۔’’ اس صحافتی کانفرنس میں اسمعیل و دیگر پارٹی قائدین موجود تھے۔
