حیدرآباد۔یکم۔فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ عوام کے دلوں سے کے سی آر کی محبت کو ختم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ تلنگانہ کے حصول کے لئے کے چندر شیکھر راؤ نے جو قربانیاں دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔ سابق ریاستی وزیر مسٹر ٹی ہریش راؤنے کے سی آر سے کی جانے والی تفتیش کو غیر قانونی اور سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کی جانے والی رہنمایانہ خطوط کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہو ںنے بتایا کہ کوئی اگر یہ تصور کررہا ہے کہ فرضی مقدمات کے ذریعہ کے سی آر کے قد کو کم کیا جاسکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے کیونکہ کے سی آر نے علحدہ ریاست تلنگانہ کے حصول کے لئے جو قربانی پیش کی ہے اسے تلنگانہ عوام بھولنے والے نہیں ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاستی حکومت بالخصوص چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اپنی ذاتی مخاصمت کی بناء پر کے سی آر کو ہراساں کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔مسٹر ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ ریاستی حکومت کے سی آر کے خاندان کو نشانہ بناتے ہوئے تلنگانہ عوام کی برہمی میں اضافہ کرنے کی مرتکب بن رہی ہے۔ انہو ں نے تلنگانہ کانگریس کے نئے جمہوری ماڈل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں کانگریس جمہوریت کا قتل کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی سوال کرتا ہے تو اسے نوٹس دی جا رہی ہے جبکہ اگر کوئی حکومت کے خلاف بول رہا ہے تو اسے حراست میں لیتے ہوئے ہراساں کیا جا رہاہے۔ انہو ںنے راہول گاندھی سے استفسار کیا کہ کیا وہ اسی جمہوریت کی تلنگانہ میں بات کررہے تھے !مسٹر ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کے 2سال کے دوران کسی بھی وعدہ پر عمل نہیں کیاگیا اور نہ ہی کوئی ایسا نشانہ حاصل کیا گیا جس کی ستائش کی جاسکے لیکن 2برسوں سے یہ SIT کا ڈرامہ چلایا جا رہاہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے جبکہ حکومت نے جو بھی SIT تشکیل دی ہے اور تحقیقاتی کمیشن بنائے ہیں ان کے ذمہ دار خود اس طرح کی کاروائیوں سے نالاں ہیں کیونکہ وہ حقائق جانتے ہوئے ہراسانی یا اذیت کے مرتکب بننے کے لئے آمادہ نہیں ہیں۔ سابق ریاستی وزیر نے کہا کہ قائد اپوزیشن کے مکان کی دیوار پر نوٹس چسپاں کرنا اور یہ کہنا کہ ان کی قیامگاہ سے محکمہ پولیس واقف نہیں ہے ان کی تذلیل کے مترادف ہے کیونکہ ایراولی کے اطراف و اکناف روزانہ خفیہ ایجنسی کے عہدیدار موجود رہتے ہیں اور ایک سے زائد ریاستی وزراء نے ایراولی فارم ہاؤز میں سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے ہمراہ تبادلہ خیال کیا ہے ۔3
اس کے باوجود پولیس کا یہ کہنا کہ ایراولی میں تفتیش نہیں کی جاسکتی انتہائی غیر اخلاقی اور تکلیف دہ بات ہے۔3