l اڈانی کی سچائی سامنے آنے تک حکومت سے سوال کرتے رہیں گے lکنیا کماری سے کشمیر تک بھارت جوڑویاترا کے تجربات کا تذکرہ lآج تک میرا کوئی گھر نہیں l پلینری اجلاس کے اختتام پر راہول کا خطاب
رائے پور : چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں کانگریس پلینری اجلاس کے آخری دن راہول گاندھی نے اپنے خطاب کے دوران جہاں کشمیر سے کنیا کماری تک کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے اپنے تجربات کاتذکرہ کیا، وہیں مرکزی حکومت، بی جے پی اور آر ایس ایس کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ راہول نے کہا ’’ہم ستیہ گرہی (تحریک چلانے والے) ہیں اور آر ایس ایس اور بی جے پی والے ستا گرہی (اقتدار کے لئے جینے والے) ہیں۔‘‘ راہول نے کہا کہ پارلیمنٹ میں انہوں نے اڈانی پر سوال کیا اور پوچھا کہ وہ 609ویں نمبر سے دوسرے نمبر پر کس طرح پہنچے۔ آخر ملک کی خارجہ پالیسی کیا ہے جو اڈانی کو بیرون ممالک سے فائدہ پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا ’’میں نے پوچھا کہ مودی جی کا اڈانی سے کیا رشتہ ہے، جو سب کے سب اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔ شیل کمپنیوں میں کس کا پیسہ لگا ہے۔ اس پر تحقیقات کیوں نہیں ہو رہی اور جے پی سی کی تشکیل کیوں نہیں کی جا رہی۔ وزیر اعظم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی رشتہ نہیں لیکن رشتہ ہے، کیونکہ ملک کا سارا پیسہ ایک شخص کے پاس جا رہا ہے۔‘‘ راہول نے کہا کہ آزادی کی جنگ بھی ایک کمپنی کے خلاف تھی اور اب بھی جنگ ایک کمپنی کے خلاف ہے۔ قبل ازیں راہول نے ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے اپنے تجربات اور مشکلات کو بیان کیا۔ انہوں نے کہا ’ہم نے کنیا کماری سے سرینگر تک چار ماہ تک ’بھارت جوڑو یاترا‘ کی۔ مختلف ریاستوں اور علاقوں میں مختلف لوگوں سے ملاقات اور ان سے ہوئی بات چیت اور مسائل سے واقفیت حاصل کی ۔ راہول نے 1977 کی اس وقت کی بات ہے جب میں چھوٹے تھے۔ الیکشن آیا، مجھے الیکشن کا علم نہیں تھا۔ ایک دن گھر میں عجیب سا ماحول تھا۔ میں نے ماں سے پوچھا کہ ماں ہم اپنا گھر کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ پہلی بار میری ماں نے مجھے بتایا کہ یہ گھر ہمارا نہیں ہے۔ یہ سرکاری گھر ہے، اب ہمیں جانا ہوگا۔ میں نے ماں سے پوچھا کہ ہم نے کہاں جانا ہے تو انہوں نے کہا پتہ نہیں کہاں جانا ہے؟ میں حیران رہ گیا۔ اب 52 سال ہو گئے اور میرے پاس اب بھی گھر نہیں ہے۔ یاترا میںمیرے 20 تا25 فٹ تک جو خالی جگہ جہاں ہندوستان کے لوگ ہم سے ملنے آئیں گے وہ ہمارا گھر ہے۔ کشمیر کے لوگوں نے ترنگا اٹھایا تھا، ہم صرف 125 مسافر تھے۔ ہزاروں کشمیریوں نے ترنگا اٹھا رکھا تھا۔ پورے کشمیر میں ایسا ہی منظر دیکھنے کو ملا۔ سی آر پی ایف والے کہہ رہے تھے کہ ہم نے اپنی زندگی میں ایسا نہیں دیکھا نریندر مودی جی نے بی جے پی کے 15تا20 لوگوں کے ساتھ جا کر لال چوک پر ترنگا لہرایا تھا۔یہی فرق ہے آپ میں اور ہم میں۔ ہم نے کسی کو آنے کے لئے نہیں کہا، وہ اپنے آپ آ گئے۔ راہول نے کہا کہ کچھ دن پہلے ایک انٹرویو میں ایک وزیر نے کہا تھا کہ چین کی معیشت ہندوستان کی معیشت سے بڑی ہے۔ ہم ان سے کیسے لڑ سکتے ہیں۔ جب انگریزوں نے ہم پر حکومت کی تو کیا ان کی معیشت ہم سے چھوٹی تھی! اس کا مطلب ہیکہ ان سے لڑو جو آپ سے کمزور ہے اور اس سے مت لڑو جو آپ سے زیادہ طاقتور ہے! اسے بزدلی کہتے ہیں۔ یہ ساورکر کا نظریہ ہے کہ اگر آپ کے سامنے کوئی مضبوط شخص ہے تو اس کے سامنے اپنا سر جھکا دو۔ آخر میں راہول گاندھی نے صدر کانگریس ملکارجن کھرگے سے کہا کہ وہ ان تپسویوں (کانگریسیوں) کے لئے پروگرام مرتب کریں تاکہ وہ آگے کام کر سکیں۔