پنچایت انتخابات میںبی آر ایس کی کامیابی عوامی رائے کی عکاس۔ بلدی انتخابات میں بھی پارٹی کی بہتر کارکردگی کا یقین
حیدرآباد۔12جنوری(سیاست نیوز) کانگریس عوام کو ’سونا دینے والی نہیں بلکہ عوام کی رقومات لوٹنے والی پارٹی ہے‘ بی آر ایس کارگذار صدر و سابق وزیر کے ٹی راما راؤ نے آج اپنے دورۂ محبوب نگر کے دوران کانگریس اور چیف منسٹر ریونت ریڈی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ ریمارک کئے اور کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد گذشتہ دو برسوں میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے ہیں اور سماج کے تمام طبقات سے کئے گئے وعدوں سے کانگریس منحرف ہوچکی ہے۔ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ محبوب نگر میں بی آر ایس دور حکومت میں جو ترقیاتی کام کئے گئے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی بلکہ اب بھی جو ترقیاتی کام جاری ہیں وہ بی آر ایس دور میں شروع کئے گئے کام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنچایت انتخابات میں بی آر ایس نے جو شاندار مظاہرہ کیا آئندہ بلدی انتخابات میں بھی بی آر ایس اسی طرح شاندار کامیابی کا مظاہرہ کرے گی ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ محبوب نگر میں بی آ رایس حکومت نے آئی ٹی مرکز کے قیام کے ذریعہ 14 سرکردہ کمپنیوں کو محبوب نگر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور محبوب نگر کے نوجوان اس آئی ٹی ہب سے استفادہ کر رہے تھے لیکن کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد اسے منتقل کردیاگیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کو محبوب نگر کے نوجوانوں کو جواب دینا چاہئے کہ آخر کیوں اس آئی ٹی مرکز کو منتقل کرنے اقدامات کئے گئے ہیں۔ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ حکومت اقتدار میں آنے کے بعد سے تلنگانہ کے تمام طبقات بدحالی کا شکوہ کر رہے ہیں کیونکہ کانگریس نے جو خواب دکھاکر اقتدار حاصل کیا تھا اسے پورا کرنے میں ناکام ہے۔کے ٹی راما راؤ نے حکومت سے اضلاع کی از سر نو حد بندی کی اطلاعات پر کہا کہ اگر حکومت ونپرتی‘ گدوال ‘ نارائن پیٹ سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کرتی ہے تو یہ عمل حکومت کیلئے آگ سے کھلواڑ کے مترادف ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پالمور۔ رنگاریڈی لفٹ آبپاشی پراجکٹ کو بی آر ایس دور میں 90 فیصد مکمل کیا جاچکا ہے لیکن 2سال میں کانگریس نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد 30 کروڑ کی لاگت سے 10 فیصد کاموں کو مکمل نہیں کیا جو انتہائی افسوسناک ہے۔انہوں نے آئندہ انتخابات میں بھارت راشٹرسمیتی کی کامیابی کو یقینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنچایت انتخابات کے نتائج یہ ثابت کر رہے ہیں کہ تلنگانہ عوام کانگریس سے عاجز آچکے ہیں اور بلدی انتخابات میں یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ شہری بلدیات میں بھی عوام حکومت سے نالاں ہیں۔ کے ٹی راماراؤ کا محبوب نگر پہنچنے پر پرتپاک خیر مقدم کیا گیا اور ہزاروں موٹرسائیکلوں کے قافلہ میں انہیں جلسہ کے مقام تک لیجایا گیا ۔ انہوں نے اس ریالی کو بی آر ایس کی کامیابی کی ریالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے تمام طبقات بی آر ایس کی دوبارہ اقتدار میں واپسی اور کے چندر شیکھر راؤ کو دوبارہ چیف منسٹر دیکھنے کے خواہاں ہیں۔3