ڈاکٹر امبیڈکر کے مجسمہ کی تنصیب سے قائدین کو کوئی دلچسپی نہیں، شہریت قانون پر کے سی آر خاموش
حیدرآباد ۔ 23 ۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے پارٹی کے تلنگانہ قائدین پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ دستور کے معمار بی آر امبیڈکر کے مجسمہ کو پولیس تحویل میں رکھے جانے پر پارٹی خاموش ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے شہریت ترمیمی قانون کے ذریعہ دستور کی خلاف ورزی کے خلاف کانگریس قائدین نے امبیڈکر مجسمہ کے پاس احتجاج منظم کیا لیکن انہوں نے امبیڈکر مجسمہ کو پولیس تحویل میں رکھے جانے کے معاملہ کو بھلادیا ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح دستور کی خلاف ورزی پر کانگریس قائدین احتجاج کر رہے ہیں، دستور کے معمار کے مجسمہ کے لئے بھی احتجاج کرنا چاہئے۔ حالانکہ یہ قومی سطح کا مسئلہ ہے۔ کے سی آر حکومت نے امبیڈکر مجسمہ کو نصب کرنے سے روکتے ہوئے ڈاکٹر امبیڈکر کی توہین کی ہے۔ پارٹی کور کمیٹی کے اجلاس میں وہ یہ مسئلہ اٹھانا چاہتے تھے لیکن اجلاس منعقد نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین کے رویہ سے انہیں تکلیف پہنچی ہے ۔ کیونکہ گزشتہ دو ماہ سے امبیڈکر کا مجسمہ پولیس کی تحویل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریت قانون کے خلاف احتجاج کی طرح امبیڈکر مجسمہ کے حصول کے لئے کانگریس قائدین کو آواز بلند کرنی چاہئے ۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ مجسمہ کو پولیس تحویل میں رکھنے کا حکومت کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجسمہ کے حصول تک وہ جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ کے سی آر نے 125 فٹ کے امبیڈکر مجسمہ کی تنسیخ کا اعلان کیا تھا لیکن چار سال گزرنے کے باوجود آج تک یہ وعدہ پورا نہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ لاکھ روپئے کے قرض سے نیا مجسمہ تیار کیا گیا تھا ۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل ڈاکٹر امبیڈکر کی مرہون منت ہے۔ کے سی آر ایک خود غرض قائد ہیں جو ووٹ کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔ مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے والے کے سی آر مخالف مسلم شہریت قانون پر خاموش ہیں۔ انہیں تلنگانہ میں قانون اور این آر سی پر عمل نہ کرنے کا اعلان کرنا چاہئے ۔ ہنمنت راؤ نے اسد اویسی کو مشورہ دیا کہ وہ کے سی آر کو سمجھائیں کیونکہ صرف پارلیمنٹ میں مخالفت کافی نہیں ہے ۔ کے سی آر نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک وعدہ کی تکمیل نہیں کی گئی۔