کانگریس لیڈر سجن کمار کی ضمانت سے سپریم کورٹ کا انکار

   

مخالف سکھ فسادات

نئی دہلی: 1984 کے سکھ مخالف تشدد کیس میں عمر قید کے مجرم کانگریس لیڈر سجن کمار کو سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے مجرم سجن کمار کو طبی بنیادوں پر ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سی بی آئی نے عدالت میں میڈیکل رپورٹ داخل کی ہے۔ سی بی آئی نے میڈیکل رپورٹ میں کہا کہ سجن کمار کی صحت مستحکم ہے۔ اس کا علاج جاری ہے اور وہ صحت یاب ہو رہے ہیں۔سی بی آئی نے کہا کہ سجن کمار کے وکیل نے بتایا ہے کہ وہ اپنا علاج میڈانتا میں کروانا چاہتے ہیں ، وہ حراست میں رہ کر اپنا علاج کروا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ سجن کمار اکیلے نہیں ہیں جن کے ساتھ خصوصی سلوک کیا جانا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ سجن کمار کو سنگین جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔ وہ جیل میں ڈاکٹروں کی نگرانی میں اپنا علاج کروا سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سجن کمار نے طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت طلب کی ہے۔سجن کمار کی جانب سے وکاس سنگھ نے کہا کہ ان کے موکل کو طبی بنیادوں پر ضمانت دی جائے۔ وکاس سنگھ نے کہا کہ اس کا وزن بہت کم ہوگیا ہے اور اسے ایک نجی اسپتال لے جانے کی ضرورت ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 1984 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ملک بھر میں سکھوں کے خلاف تشدد بھڑک اٹھا تھا۔دسمبر 2018 میں دہلی ہائی کورٹ نے سجن کمار کو دہلی فسادات کے لیے عمر قید کی سزا سنائی جس کے بعد سجن کمار جیل میں ہیں۔ سال 2013 میں دہلی ہائی کورٹ نے زیریں عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیاتھا۔ اس معاملے میں ٹرائل کورٹ نے سجن کمار کو بری کر دیا تھا۔