نئی دہلی: دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے کانگریس لیڈر سندیپ ڈکشٹ کے جاسوسی کے الزام اور اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل پنجاب سے دہلی بڑی رقم لانے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔دکشت نے 25 دسمبر کو لکھے گئے خط میں دہلی میں اپنی رہائش گاہ کے باہر ‘پنجاب سرکار’ کے انٹیلی جنس اہلکاروں کی مبینہ موجودگی کا حوالہ دیا۔اس نے الزام لگایا کہ ان اہلکاروں کے ساتھ منسلک ‘سرکاری گاڑیاں اکثر اس کے گھر کے باہر نظر آتی ہیں، جو کہیں نگرانی کی علامت ہے۔الزامات کا جواب دیتے ہوئے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے کہا کہ اروند کیجریوال پر حملہ کرنے کے لیے بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ملی بھگت ہے۔پارٹی نے ایک بیان میں کہاکہ ان کے پاس (بی جے پی اور کانگریس) کے پاس دہلی کے لیے کوئی وڑن یا منصوبہ نہیں ہے اور ان کے تمام الزامات اور مقدمات ہمیشہ غلط ثابت ہوئے ہیں۔سکسینہ نے تین دن کے اندر الزامات کی رپورٹ طلب کی ہے۔ڈکشٹ نے پنجاب حکومت پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ انتخابات سے قبل ووٹروں کو متاثر کرنے کے لیے دہلیکو کروڑوں روپئے کی نقد رقم بھیج رہی ہیے۔انہوں نے کہا کہ کچھ خانگیگاڑیاں ہریانہ اور راجستھان کے راستے دہلی آرہی ہیں جو اکثر پنجاب پولیس کی حفاظت میں رہتی ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر نے دہلی پولیس کمشنر کو حکم دیا کہ وہ شہر کی سرحدوں پر گاڑیوں، خاص طور پر پنجاب سے آنے والی گاڑیوں کی جانچ کے لیے فوری اقدامات کریں ۔پنجاب، ہریانہ اور راجستھان کے پولیس ڈائریکٹر جنرلز کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ‘ہائی الرٹ’ پر رہیں اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی پر نظر رکھیں۔دہلی کے چیف سکریٹری کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چیف الیکٹورل آفیسر کو مطلع کریں کہ الیکشن کی تاریخ قریب آتے ہی چوکسی بڑھا دی جائے۔فروری میں دہلی میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔