ممبئی 4 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ممبئی کانگریس کے لیڈر سنجے نروپم نے آج کہا کہ پارٹی کی جانب سے پارٹی کے زمینی سطح کے قائدین کی کوئی رائے نہیں لی جا رہی ہے اور کل ہند کانگریس کے جنرل سکریٹریز کو جو ریاستی امور کے نگران ہیں بہت زیادہ طاقتور بنادیا گیا ہے ۔ سنجے نروپم ممبئی سے اپنے ایک حامی امیدوار کو ٹکٹ نہ دئے جانے پر ناراض ہیں۔ انہوں نے کل ہی اعلان کیا تھا کہ وہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کے حق میں انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے گے ۔ ریاست میں 21 اکٹوبر کو رائے دہی ہونے والی ہے اور نتائج کا اعلان 24 اکٹوبر کو کیا جائیگا ۔ سنجے نروپم نے کہا کہ حالانکہ انہوں نے ممبئی کانگریس سربراہ کی حیثیت سے چار سال تک خدمات انجام دی ہیں لیکن پارٹی میں انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ پی ٹی آئی سے بات چیت کرتے ہوئے سنجے نروپم نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کیلئے ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت ان کی رائے کو خاطر میں نہیں لایا گیا ۔ سنجے نروپم کو لوک سبھا انتخابات کی شکست کے بعد ممبئی کانگریس کی صدارت سے ہٹادیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے عمل میں ان کا کوئی رول نہیں رہ گیا ہے ۔
ان کے خیالات پر اسمبلی ٹکٹس کی تقسیم کے وقت غور نہیں کیا گیا ہے ۔ خود ان کے حلقہ لوک سبھا میں بھی ان کی رائے کو اہمیت نہیں دی گئی ہے ۔ ان کیلئے پارٹی میں کوئی عزت نہیں رہ گئی ہے حالانکہ وہ چار سال تک ممبئی کانگریس کے سربراہ رہے ہیں۔ پارٹی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی میں پورے نظام میں غلطیاں ہیں۔ پارٹی کے زمینی سطح کے قائدین کی رائے لینے کا جو قدیم طریقہ کار تھا اسے ختم کردیا گیا ہے ۔ ریاستی امور کے نگران کل ہند کانگریس جنرل سکریٹری کا فیصلہ قطعی ہوگیا ہے ۔ انہیں بہت طاقتور بنادیا گیا ہے اور وہ جانبدار بھی ہیں۔ نروپم نے کہا کہ انہوں نے صرف ایک امیدوار کا نام دیا تھا اور اسے بھی منظوری نہیں دی گئی ۔