کانگریس میں ٹکٹ کیلئے رسہ کشی، افراد خاندان کیلئے سفارشات

   

ایک خاندان ایک ٹکٹ کی شرط، انجن کمار یادو تین ٹکٹوں کے دعویدار، ستمبر کے پہلے ہفتہ میں فہرست کو قطعیت
حیدرآباد۔/30 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس کے موقف میں بہتری کے سبب اسمبلی چناؤ میں پارٹی ٹکٹ کیلئے قائدین میں غیر معمولی مسابقت دیکھی جارہی ہے۔ 119 اسمبلی حلقہ جات کیلئے 1006 درخواستیں داخل کی گئیں اور امیدواروں کا انتخاب کرنا کانگریس ہائی کمان کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ کانگریس جو ہمیشہ گروہ بندیوں کیلئے شہرت رکھتی ہے ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملہ میں بھی قائدین میں اختلافات منظرعام پر آچکے ہیں۔ کئی سینئر قائدین ایک سے زائد ٹکٹ کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن کانگریس ہائی کمان نے کسی بھی قائد کیلئے فیملی پیاک کی منظوری سے انکار کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پردیش الیکشن کمیٹی کے اجلاس میں ایک خاندان میں دو ٹکٹوں کے الاٹمنٹ کے معاملہ پر گرما گرم مباحث ہوئے۔ ایک مرحلہ پر صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی اور رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی کے درمیان لفظی تکرار ہوئی۔ اتم کمار ریڈی نے مشورہ دیا کہ ایک خاندان ایک ٹکٹ کی شرط میں ترمیم کیلئے ریونت ریڈی ہائی کمان کو مکتوب روانہ کریں۔ جس پر ریونت ریڈی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی کی ہدایت کی ضرورت نہیں ہے اور ہائی کمان اس بارے میں فیصلہ کرے گا۔ ایسے وقت جبکہ تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کے برسراقتدار آنے کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں کئی سینئر قائدین نے اپنے جانشینوں کو ٹکٹ مانگ کی ہے۔ ان کے علاوہ بی آر ایس سے شمولیت اختیار کرنے والے قائدین بھی ایک سے زائد ٹکٹ کا تیقن حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ صرف دو اسمبلی حلقہ جات کوڑنگل اور جگتیال سے صرف ایک، ایک درخواست داخل کی گئی جو ریونت ریڈی اور ٹی جیون ریڈی کی ہے۔ کاماریڈی اسمبلی حلقہ سے چیف منسٹر کے سی آر سے مقابلہ کیلئے محمد علی شبیر کی امیدواری تقریباً یقینی ہوچکی ہے اور اس حلقہ سے مقامی لیڈر کے راجو نے بھی درخواست داخل کی۔ ایلندو اسمبلی حلقہ سے سب سے زیادہ 32 درخواستیں داخل کی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس پارٹی ستمبر کے پہلے ہفتہ میں ایس سی، ایس ٹی اور بی سی امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کرے گی جو 40 ناموں پر مشتمل ہوگی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق سینئر قائدین کے جانا ریڈی، بلرام نائیک، اتم کمار ریڈی، سیتکا ، انجن کمار یادو، دامودھر راج نرسمہا، کونڈہ سریکھا اپنے علاوہ کسی فرد خاندان کو ٹکٹ کی مانگ کررہے ہیں۔ سابق مرکزی وزیر بلرام نائیک اپنے بیٹے کو ٹکٹ چاہتے ہیں۔ اتم کمار ریڈی اور ان کی اہلیہ پدماوتی ریڈی علی الترتیب حضور نگر اور کوداڑ سے ٹکٹ کے دعویدار ہیں۔ سابق سی ایل پی لیڈر کے جانا ریڈی اپنے فرزند کیلئے ٹکٹ کی سفارش کررہے ہیں۔ کونڈہ سریکھا ورنگل ایسٹ اور ان کے شوہر کونڈہ مرلی پرکالہ اسمبلی حلقوں سے ٹکٹ کے امیدوار ہیں۔ سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا اپنے علاوہ دختر کو بھی ٹکٹ کی مانگ کررہے ہیں۔ رکن اسمبلی سیتکا ملگ سے اور اپنے فرزند کو پناپاکا اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ کے خواہاں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق رکن پارلیمنٹ انجن کمار یادو نے اپنے علاوہ دو فرزندوں کو صنعت نگر اور گوشہ محل سے ٹکٹ کا مطالبہ کیا ہے جبکہ وہ مشیرآباد اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کے خواہاں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بی آر ایس کی ناراض رکن اسمبلی ریکھا نائیک نے خانہ پور اور ان کے شوہر کو آصف آباد سے ٹکٹ کی شرط رکھی ہے۔ بی آر ایس کے ایک اور ناراض رکن اسمبلی ایم ہنمنت راؤ بھی ایک خاندان میں دو ٹکٹ چاہتے ہیں۔ سینئر قائدین کی جانب سے افراد خاندان کیلئے ٹکٹ کے مطالبہ پر دیگر قائدین میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نشستیں خاندان میں ہی تقسیم کرنا ہے تو پھر کارکردگی اور اہلیت کا جائزہ لینے کی کیا ضرورت ہے۔ پردیش الیکشن کمیٹی کے اجلاس میں یوتھ کانگریس کے صدر شیوا سینا ریڈی اس مسئلہ پر جذبات سے مغلوب ہوگئے اور کہا کہ نوجوان قائدین کے ساتھ آخر کب انصاف ہوگا۔ واضح رہے کہ کانگریس کے ادئے پور ڈیکلریشن کے مطابق ایک خاندان میں صرف ایک ٹکٹ دیا جاسکتا ہے۔ اس شرط میں ترمیم کیلئے ضروری ہے کہ خاندان کا دوسرا فرد بھی مسلسل پانچ سال تک پارٹی میں سرگرم رہے۔ پردیش الیکشن کمیٹی کا آئندہ اجلاس 2 ستمبر کو منعقد ہوگا جبکہ 4 ستمبر کو اسکریننگ کمیٹی کا اجلاس ہوسکتا ہے جس میں امیدواروں کے ناموں کو شارٹ لسٹ کیا جائے گا۔ کانگریس میں ایک خاندان سے دو ٹکٹ کے مسئلہ کی یکسوئی پر کیڈرکی نظریں ہیں۔