کانگریس نے اقتدار کیلئے چند اضلاع میں بی جے پی سے اتحاد کیا دونوںایک سکہ کے دو رخ : کے ٹی آر کا بیان

   

حیدرآباد ۔ 17 ۔فروری ۔ ( سیاست نیوز ) تلنگانہ میں بلدی انتخابات میں اپنی جھوٹی شان و شوکت کی خاطر بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے کارپوریشن کے چیرمین و وائس چیرمین کی نشستیں حاصل کرتے ہوئے اس بات کا ثبوت دیا کہ بڑے بھائی اور چھوٹے بھائی کی اٹوٹ وابستگی ہے ۔ اس بات کا انکشاف بی آر ایس پارٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ و رکن اسمبلی سرسلہ کے ٹی آر نے اپنے ایک صحافتی بیان میں کیا کہ گزشتہ تلنگانہ میں بلدی انتخابات میں بی جے پی اور کانگریس نے اتحاد حاصل کرتے ہوئے معین آباد ، نرسا پور ، مٹ پلی ، علی آباد جیسے اضلاع میں بی آر ایس کو اکثریت حاصل ہونے کے باوجود اپنی جھوٹی شان کیلئے بی جے پی سے اتحاد کیا اور سمجھوتہ کرتے ہوئے کانگریس نے چیرمین اور وائس چیرمین نشستیں حاصل کیا ۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ سرپور کاغذنگر میں بی آر ایس پارٹی کو بھاری اکثریت کے باوجود علی آباد کے چیرمین نشست کیلئے بی جے پی کی مدد حاصل کرتے ہوئے ، وائس چیرمین بی جے پی اور چیرمین کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا ۔ اسی طرح میدک و نرسا پور ، مٹ پلی اضلاع میں بھی چیرمین و وائس چیرمین حاصل کیا ۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی کی مدد سے کانگریس پارٹی نے کامیابی حاصل کی ۔ بی آر ایس پارٹی نے بی جے پی کو دفن کرنے کیلئے نظام آباد ، عادل آباد ، مادناپیٹ ، ٹورور کے علاوہ دیگر اضلاع میں کانگریس اور بی جے پی کو آگے بڑھنے سے روک دیا ۔ تاہم بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے کریم نگر اور نظام آباد کے میئر کے عہدہ حاصل کیا ۔ تلنگانہ میں ابھی تک عوام کی نظر میں بی آر ایس کا موقف برقرار ہے ۔ ایک طرف کانگریس کے راہول گاندھی کا کہنا ہیکہ بی جے پی سے کانگریس کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن تلنگانہ میں ریونت ریڈی حکومت بی جے پی کی بی ٹیم بن کر کام کررہی ہے ۔ کاماریڈی کے چند علاقوں میں ٹی ڈی پی کی مدد سے چیرمین کی نشستیں حاصل کی ۔ راہول گاندھی کو اس بات کی وضاحت کرنا ہیکہ وہ بی جے پی کے ساتھ ہے یا نہیں ۔ ریونت ریڈی کا اصلی چہرہ اس بلدی انتخابات میں سامنے آچکا ہے ۔