’کانگریس نے کچھ نہیں کیا تو ایمس اور اِسرو جیسے ادارے کیسے آئے؟

   

مودی بی جے پی میں دوسرے قائدین کو شامل کرنے مرکزی ایجنسیوں کے استعمال میں مصروف، پرینکا کا خطاب

نئی دہلی :پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’ وزیر اعظم مودی خود کی تعریف خود ہی کرتے ہیں، مرکزی ایجنسیوں کا استعمال کر لیڈروں کو اپنی پارٹی میں لانے اور حکومت گرانے میں اتنے مصروف ہیں کہ روزگار، مہنگائی کو بھول گئے ہیں۔مکمل اکثریت کے ساتھ وہ حکومت میں ہیں۔ اب وہ کہتے ہیں ’400 پار‘، یعنی انھیں مزید اکثریت چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ 75 سالوں میں کچھ نہیں کیا گیا، تو اتراکھنڈ میں ایسی ہنر کس طرح وسعت پائی جہاں سے آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم اور ملک میں ایمس آئے۔ چاند پر چندریان اترا۔ اگر پنڈت جواہر لال نہرو نے انھیں نہیں بنایا ہوتا تو کیا یہ ممکن تھا؟‘‘ یہ بیان کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے اتراکھنڈ کے نینی تال میں واقع رام نگر میں ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے پرینکا نے کہا کہ ’’اتراکھنڈ سے میری فیملی کا بہت پرانا رشتہ ہے۔ یہاں پر ہمارے بچپن کی کچھ یادیں ہیں۔ میرے والد، بھائی، بیٹے اور میں نے یہاں سے تعلیم حاصل کی ہے۔ ہمیں جب بھی چھٹی ملتی، اپنے بچوں کے ساتھ یہاں گھومنے آتے ہیں۔ میں خود کو خوش قسمت مانتی ہوں کہ آج میں یہاں رام نگر آئی ہوں۔ پھر انہوں نے کہاکہ ’’مودی جی نہیں بلکہ ہم سب اتراکھنڈ، ہماچل پردیش کو ’دیو بھومی‘ کہتے ہیں۔ لیکن جب اسی دیو بھومی ہماچل میں شدید آفت آئی تو وہاں نہ مودی جی نظر آئے اور نہ ہی بی جے پی کا کوئی کارکن۔ وہاں کانگریس لیڈران، وزراء اور خود وزیر اعلیٰ راحت پہنچا رہے تھے۔ مودی حکومت نے راحت کا پیسہ آج تک نہیں دیا۔ مودی جی کیلئے دیو بھومی صرف انتخاب کے وقت ہوتی ہے کیونکہ یہ ان کی عادت بن گئی ہے اور سچائی بہت دور ہے۔ مودی حکومت پر شدید رخ اختیار کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ہندو مذہب میں عقیدہ کا سب سے بڑا ثبوت ’قربانی‘ ہوتا ہے۔ میں نے 19 سال کی عمر میں اپنے والد کی نعش اپنی ماں کے سامنے رکھی ہے۔ میں شہادت اور قربانی کو سمجھتی ہوں۔ یہ میری فیملی کو کتنی بھی گالیاں دیں، میرے شہید والد کی بے عزتی کریں لیکن ہم خاموش رہتے ہیں، کیونکہ یہ ہماری جدوجہد کو نہیں سمجھتے۔ ہم خاموش رہتے ہیں کیونکہ اس ملک کیلئے عقیدہ اور سچی عقیدت ہمارے دل میں ہے۔ پرینکا نے مزید کہا کہ ’’پی ایم مودی یہاں پر سیاحت کی بات کرتے ہیں، لیکن یہاں کی سچائی بے روزگاری، مہنگائی اور پیپر لیک ہے۔ یہ سب کس کی حکومت میں ہو رہا ہے؟ اپنی تقریر کے دوران پرینکا گاندھی یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’پی ایم مودی کہتے ہیں سب بدعنوان ہیں، بس وہی پاک صاف ہیں۔ خود کی تعریف خود ہی کرتے ہیں۔ ای ڈی، سی بی آئی، آئی ٹی کا استعمال کر کے لیڈروں کو اپنی پارٹی میں لانے اور حکومت گرانے میں اتنے مصروف ہیں کہ روزگار، مہنگائی کی بات بھول گئے۔ پھر الیکٹورل بانڈ میں انکشاف ہوا تو چندہ دو۔دھندا لو والی بات سامنے آ گئی۔ اب آپ بتائیے کہ بدعنوان کون ہیں؟ کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ ’’پی ایم مودی بتائیں کہ انکیتا بھنڈاری، جس کا جنھوں نے استحصال کیا اور قتل کیا، ان لوگوں کو تحفظ کس نے دیا؟ اناؤ اور ہاتھرس کی متاثرہ کو جلانے والوں کو تحفظ کس نے دیا؟ منی پور میں ایک فوجی کی بیوی کو برہنہ کر پورے گاؤں کے سامنے گھمانے والوں کو تحفظ کس نے دیا؟ اولمپک میڈل جیت کر آئی خواتین پہلوانوں پر مظالم کرنے والوں کو کس نے تحفظ دیا؟‘‘