کانگریس وینٹی لیٹر پر جانا ریڈی ماضی کا حصہ

   

بی جے پی فرقہ پرستی کے ایجنڈہ پر قائم، محمد محمود علی ، سرینواس یادو کی انتخابی مہم
حیدرآباد۔ ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کانگریس کے امیدوار جانا ریڈی کو ماضی کا باب قرار دیتے ہوئے ٹی آر ایس کے نوجوان تعلیم یافتہ امیدوار این بھگت کمار کو ناگرجنا ساگر کے ضمنی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی اپیل کی ۔ آج ہالیہ میں وزیر انیمل ہسبینڈری ٹی سرینواس یادو کے ساتھ گھر گھر پہنچ کر انتخابی مہم چلائی اور روڈ شو سے خطاب کرتے ہوئے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ کانگریس اور تلگودیشم کی 60 سالہ حکومت اور ٹی آر ایس کی 6 سالہ حکومت کا جائزہ لیں ۔ ٹی آر ایس ریاست کی ترقی اور غریب عوام کی فلاح و بہبود کو موضوع بناکر عوام سے ووٹ طلب کررہی ہے۔ کانگریس عوامی اعتماد سے محروم ہوچکی ہے ایسے میں جانا ریڈی کو ووٹ دینا قیمتی ووٹوں کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ محمد محمود علی نے کہا کہ بی جے پی ناگرجنا ساگر کے ضمنی انتخابات کی دوڑ میں بھی شامل نہیں ہے جس کے پاس سوائے فرقہ پرستی کے ترقی کا کوئی ایجنڈہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس سماج کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے والی جماعت ہے ۔ ٹی سرینواس یادو نے کہا کہ لمبے عرصہ تک وزارت میں شامل رہنے والے جانا ریڈی نے اپنے آبائی گاؤں کی ترقی کیلئے کچھ نہیں کیا ہے۔ وہ عمر رسیدہ ہونے کے ساتھ تھک گئے ہیں اور بڑی مشکل سے چل پھر رہے ہیں۔ جانا ریڈی کو یقین ہے کہ وہ شکست سے دوچار ہوجائیں گے اس لئے انہوں نے انتخابی مہم نہ چلانے کی تجویز پیش کی ہے۔ ریاست میں کانگریس کا وجود خطرہ میں ہے۔ کانگریس پارٹی وینٹی لیٹر پر پہنچ چکی ہے لہذا حلقہ ناگر جنا ساگر کیلئے ٹی آر ایس کے امیدوار این بھگت کمار میں موزوں امیدوار ہیں لہذا انہیں بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی اپیل کی۔