سی پی ایم نے 17 نشستوں پر مقابلہ کا اعلان کیا، سی پی آئی آج فیصلہ کرے گی
حیدرآباد ۔3۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی چناؤ میں کانگریس اور بائیں بازو جماعتوں کے درمیان انتخابی مفاہمت کے امکانات موہوم دکھائی دے رہے ہیں۔ کانگریس قائدین اگرچہ سی پی آئی اور سی پی ایم سے مفاہمت کے بارے میں پر امید ہیں لیکن سی پی ایم نے کانگریس پر دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے 17 اسمبلی حلقہ جات سے مقابلہ کا اعلان کردیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس نے سی پی آئی اور سی پی ایم کو دو دو نشستوں کا پیشکش کیا تھا تاہم حلقہ جات کے انتخاب کے مسئلہ پر اختلافات پیدا ہوگئے ۔ چنور اسمبلی حلقہ پر سی پی ایم نے دعویداری پیش کی تھی لیکن کانگریس پارٹی نے بی جے پی سے شمولیت اختیار کرنے والے جی ویویک وینکٹ سوامی کو چنور سے ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کانگریس ہائی کمان نے سی پی آئی اور سی پی ایم کو پارٹی برسر اقتدار آنے کے بعد کونسل کی ایک ایک نشست الاٹ کرنے اور کابینہ میں دو نمائندوں کی شمولیت کا تیقن دیا۔ سی پی آئی ایم کے ریاستی سکریٹری ٹی ویرا بھدرم نے 17 اسمبلی حلقہ جات کی فہرست جاری کردی ۔ دوسری طرف سی پی آئی نے سینئر قائدین کا اجلاس طلب کرتے ہوئے ہفتہ تک مقابلہ کے بارے میں فیصلہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سی پی آئی اور سی پی ایم کانگریس سے مفاہمت کے بغیر اسمبلی چناؤ میں حصہ لیں گے۔ ٹی ویرا بھدرم نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے بائیں بازو جماعتوں کی توہین کی ہے۔ انہوں نے کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کے بیان پر تنقید کی جس میں انہوں نے اسمبلی کے بجائے کونسل الاٹ کرنے کی بات کہی ہے۔ سی پی ایم نے جن حلقہ جات سے مقابلہ کا اعلان کیا ہے، ان میں بھدرا چلم ، اشوا راؤ پیٹ ، پالیرو ، مدھیرا ، وائرا ، کھمم ، ستو پلی ، مریال گوڑہ ، نلگنڈہ ، نکریکل ، بھونگیر ، حضور نگر ، کوداڑ ، جنگاؤں ، ابراہیم پٹنم ، پٹن چیرو اور مشیر آباد شامل ہیں۔