کانگریس و بی جے پی کی نشستوں پر بی آر ایس کو مضبوط امیدواروں کی تلاش

,

   

چیف منسٹر کے سی آر کا جائزہ اجلاس ، کیڈر کے حوصلے بلند کرنے مساعی

حیدرآباد۔20۔اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ میں 100 نشستوں پر کامیابی کے نشانہ کے ساتھ حکمت عملی تیار کرنے والے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کانگریس اور بی جے پی کی نشستوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔ جاریہ سال کے اواخ میں اسمبلی انتخابات سے متعلق مختلف سروے رپورٹس کی بنیاد پر کے سی آر نے انتخابی حکمت عملی طئے کی ہے ۔ پارٹی کیڈر کے حوصلے بلند کرنے کیلئے کے سی آر نے کانگریس اور بی جے پی کی موجودہ نشستوں پر کامیابی کے لئے مساعی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ چیف منسٹر نے سینئر قائدین کے ساتھ اجلاس مے واضح کیا کہ کانگریس اور بی جے پی کی موجودہ نشستوں پر طاقتور امیدواروں کو میدان میں اتارا جائے گا ۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے 17 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کی تھی جن میں سے 12 ارکان اسمبلی مختلف مراحل میں بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ پارٹی کیڈر کو تیسری مرتبہ کامیابی کا یقین دلانے کیلئے کے سی آر نے کانگریس اور بی جے پی کی موجودہ نشستوں پر توجہ دینے کی ہدایت دی ہے تاکہ 100 نشستوں کے نشانہ کی بآسانی تکمیل ہو۔ کے سی آر نے گوشہ محل ، حضور آباد ، بھدرا چلم ، کنٹونمنٹ اور بعض دیگر اپوزیشن کے اسمبلی حلقہ جات کے لئے انچارجس کا تقرر کیا ہے ۔ چیف منسٹر نے اجلاس میں واضح کیا کہ وہ تلنگانہ اسمبلی میں بی جے پی کی نمائندگی کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ فرقہ وارانہ سیاست سے ریاست کو نجات دلائی جائے۔ کانگریس اور بی جے پی کی نشستوں پر توجہ مبذول کرتے ہوئے کے سی آر چاہتے ہیں کہ اپوزیشن ارکان کے حلقوں میں موجود پارٹی قائدین اور کیڈر کے حوصلوں کو بلند کیا جائے۔ اسمبلی میں فی الوقت آر ایس ایس ارکان کی تعداد 104 ء ہے جبکہ کانگریس 5 ، مجلس 7 اور بی جے پی کے 3 ارکان ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے مجلس کی موجودہ 7 نشستوں پر حلیف جماعت سے دوستانہ مقابلہ کا اشارہ دیا ہے ۔ ان اسمبلی حلقہ جات میں کمزور امیدواروں کے ذریعہ حلیف جماعت کی کامیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔ کانگریس کے حلقہ جات منتھنی ، مدھیرا ، بھدرا چلم ، ملگ اور سنگا ریڈی میں موضوع امیدواروں کی تلاش کا کام شروع کردیا گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے ہفتہ میں ایک مرتبہ انتخابی حکمت عملی پر جائزہ اجلاس طلب کرنے کا فی