کانگریس و نیشنل کانفرنس ارکان کا لوک سبھا میں احتجاج

   

Ferty9 Clinic

سونیا ، راہول اور پرینکا کی سکیوریٹی میں کمی اور دیگر اُمور پر مباحث کا مطالبہ
نئی دہلی 19 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا میں مختلف اُمور پر کانگریس ارکان کی جانب سے زبردست نعرے بازی کی گئی۔ وقفہ سوالات کے دوران کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے تقریباً 20 ارکان نعرہ بازی کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔ اسپیکر اوم برلا ، ارکان سے بارہا اپنی نشستوں پر واپس جانے کی خواہش کرتے رہے۔ صورتحال بے قابو ہونے پر اسپیکر نے ہنگامہ آرائی کرنے والی ارکان کو انتباہ دیا کہ ایوان کے وسط میں احتجاج کرنے والے ارکان کے خلاف کارروائی کے لئے انھیں مجبور ہونا پڑے گا۔ سرمائی اجلاس کے دوسرے دن جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں بشمول ڈی ایم کے اور ٹی ایم سی بعض مسائل کو پیش کرنا چاہتے تھے۔ اسپیکر اس کیلئے وقفہ سوالات چاہتے تھے۔ اس دوران احتجاجی ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرنے لگے۔ اسپیکر نے انھیں نشستوں پر واپس جانے کیلئے کہا اور بتایا کہ کسانوں کے مسائل پر بات ہورہی ہے۔ اسپیکر نے کہاکہ آج کے بعد ایوان کے وسط میں کوئی رکن احتجاج نہیں کرے گا۔ ایسا کرنے پر اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس دوران کسانوں سے متعلق مختلف سوالات اور ضمنی اُمور پر مباحث ہوئے۔ ایک مرحلہ پر اسپیکر نے یہ بھی کہاکہ اگر احتجاجی ارکان اپنی نشستوں پر واپس جاتے ہیں تو انھیں ضمنی سوالات کا موقع دیا جائے گا۔ دوسری طرف ارکان نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔ کانگریس ارکان مختلف اُمور پر مباحث چاہتے تھے جن میں صدر کانگریس سونیا گاندھی، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کی ایس پی جی سکیورٹی سے حکومت کی دستبرداری پر بحث بھی شامل ہے۔ کانگریس کے علاوہ نیشنل کانگریس کے ارکان نے بھی ایوان کے وسط میں احتجاج کیا۔