اترپردیش ، بہار ، اور بنگال بھی جائیں گے اسد الدین اویسی
حیدرآباد۔29 اکٹوبر(سیاست نیوز) مجلس کی دانست میں کانگریس نامردوں کی سیاسی جماعت ہوچکی ہیں اور کانگریس میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیوسینا جیسی سیاسی جماعتوں کا مقابلہ کرنے کی جرأت باقی نہیں ہے۔ رکن قانون ساز کونسل مجلس اتحاد المسلمین جناب سیدامین الحسن جعفری کا یہ پیغام سوشل میڈیا پر گشت کررہا ہے۔ ملک کے مختلف ریاستوں میں مجلس کے انتخابات میں حصہ لینے پر کئے جانے والے اعتراضات اور مہاراشٹرا نتائج پر ونچت بہوجن اگھاڑی کے علاوہ مجلس کے مقابلہ کے اثرات پر کی جانے والی تنقیدوں کے جواب میں جناب سیدامین الحسن جعفری نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجلس نے 44نشستوں پر مقابلہ کیا تھا اور 2پر کامیابی حاصل کی تو یہ کہا جا رہاہے کہ 40 نشستوں پر مجلس کے سبب کانگریس اور این سی پی اتحاد کو شکست ہوئی ہے ۔ انہو ںنے استفسار کیا کہ 146 نشستوں پر کامیابی پر کانگریس اور این سی پی کے لئے کس نے رکاوٹ پیدا کی ہے!سوشل میڈیا پر گشت کر رہے ان کے نمبر کے ساتھ پیام میں یہ بھی دعوی کیا جا رہاہے کہ باریکی کے ساتھ اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو کئی شیو سینا اور بی جے پی امیدوارو ںکی کامیابی میں بھی مجلس رکاوٹ بنی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مجلسی قیادت کی جانب سے بہت جلداس فیصلہ کا بھی باضابطہ انکشاف کیا جانے والا ہے کہ مجلس بہار‘ بنگال اور اترپردیش کے انتخابات میں حصہ لینے کا بھی اعلان کرے گی اور ممکن ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے درمیان مقابلہ اسی طرح رہا تو دہلی اسمبلی انتخابات میں بھی حصہ لینے کا اعلان کیا جائے گا۔جناب سید امین الحسن جعفری کی جانب سے پیش کئے گئے تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں 5کروڑ ووٹ کا استعمال کئے گئے جس میں مجلس کو 7.4لاکھ ووٹ حاصل ہوئے ہیںجبکہ سماج وادی پارٹی کو 2.6لاکھ ووٹ حاصل ہوئے کا دعوی کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مہاراشٹرا میں کانگریس ۔این سی پی سیکولر اتحاد کی شکست کے لئے صرف مجلس کو ذمہ دار قرار دئیے جانے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان انتخابات میں دیگر کئی سیاسی جماعتوں کے علاوہ آزاد امیدواروں نے بھی حصہ لیا تھا اور انہوں نے بھی کافی ووٹ حاصل کئے ہیں ان پر اس طرح کوئی اعتراض نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ جس طرح کانگریس ۔این سی پی مجلس کو مورد الزام ٹہرانے کی کوشش کررہے ہیںاس کے جواب میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر بی جے پی شیوسینا انتخابات میں حصہ نہ لیتے تو کانگریس۔این سی پی اتحاد تمام نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومت بنا لیتا۔