تلنگانہ کے تمام پراجکٹس کانگریس کی دین، ہریش راؤ کو کھلے مباحث کیلئے جگا ریڈی کا چیلنج
حیدرآباد/22 جون، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن اسمبلی ٹی جئے پرکاش ریڈی ( جگا ریڈی ) نے کہا کہ کانگریس پارٹی آبپاشی پراجکٹ کے خلاف نہیں ہے بلکہ پراجکٹس میں کرپشن و کمیشن کے خلاف ہے۔ کالیشورم پراجکٹ کے معاملہ میں سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے کمیشن اور کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے جگا ریڈی نے کہاکہ کانگریس نے کبھی بھی پراجکٹس کے تعمیر کی مخالفت نہیں کی۔ وہ چاہتی ہے کہ تعمیری کام شفافیت کے ساتھ مکمل کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر میں کانگریس کی برابر کی حصہ داری ہے۔ کانگریس نے تلنگانہ تشکیل دی لہذا پراجکٹ پر وہ اپنا دعویٰ پیش کرسکتی ہے۔ اگر سونیا گاندھی اور راہول گاندھی تلنگانہ تشکیل نہ دیتے تو یہ پراجکٹ تعمیر نہ ہوتا۔ انہوں نے سابق وزیر ہریش راؤ کو تلنگانہ میں آبپاشی پراجکٹس کے مسئلہ پر کھلے مباحث کا چیلنج کیا۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ میں گذشتہ 50 برسوں کے دوران جو بھی پراجکٹس تعمیر ہوئے ہیں وہ کانگریس کی دین ہیں جبکہ ٹی آر ایس نے پانچ برسوں میں صرف کالیشورم پراجکٹ تعمیر کیا ہے جس کا دنیا بھر میں دنیا بھر میں ڈِھنڈورا پیٹا جارہا ہے۔ کانگریس نے کئی اہم پراجکٹ تعمیر کئے لیکن اُن کی اس قدر تشہیر نہیں کی۔ انہوں نے ہریش راؤ کی جانب سے کانگریس پر کی جارہی تنقیدوں کو مسترد کردیا اور کہا کہ ہریش راؤ جان بوجھ کر کانگریس کو نشانہ بنارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ریاست کیلئے جو کچھ کیا ہے اس سے عوام اچھی طرح واقف ہیں۔ جگا ریڈی نے کہا کہ اگر سونیا گاندھی تلنگانہ تشکیل نہ دیتیں تو کے سی آر کے خاندان کو اتنے عہدے حاصل نہ ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ امبیڈکر پرانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کے نام کو تبدیل کرتے ہوئے کالیشورم کا آغاز کیا گیا۔ سنگور، منجیرا، ایس آر ایس پی، ناگرجنا ساگر، سری سیلم ، دیوادولہ، جورالہ، یلم پلی، بیما، نیٹم پاڈو، کے ایل ساگر، گڈناواگو، پیداواگو، علی ساگر، چوٹ پلی اور دیگر پراجکٹس کانگریس دور حکومت میں تعمیر کئے گئے۔ کانگریس چیف منسٹرس نے آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر پر توجہ دی تھی۔ متحدہ محبوب نگر، عادل آباد، ورنگل اور کریم نگر اضلاع میں موجودہ آبپاشی پراجکٹس کانگریس کے تعمیر کردہ ہیں۔ انہوں نے ہریش راؤ سے کہا کہ کانگریس کے تعمیر کردہ سنگور پراجکٹ کا پانی پی کر وہ بڑے ہوئے ہیں لیکن کانگریس کا احسان ماننے تیار نہیں۔ انہوں نے کانگریس اور ٹی آر ایس دور میں آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر پر ہریش راؤ کو کھلے مباحث کا چیلنج کیا۔ جگا ریڈی نے کہا کہ اگر ہریش راؤ مباحث کیلئے تیار نہ ہوں تو وہ انہیں ساتھ لے کر پراجکٹس کا معائنہ کرنے تیار ہیں۔ جگا ریڈی نے کہا کہ اگر آپ کے کوئی شخصی مسائل ہیں تو وہ گھر میں حل کرلیں لیکن کانگریس پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر آبپاشی پراجکٹس کے بارے میں پھر کانگریس کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خاموش نہیں رہیں گے۔ کانگریس پارٹی مناسب انداز میں جواب دینا جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے کالیشورم کی افتتاحی تقریب میں جگن موہن ریڈی اور دیویندر فڈ نویس کو مدعو کیا ۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ وہ تلنگانہ کے اپوزیشن قائدین کو بھی تقریب میں مدعو کرتے۔
